August 22, 2019 at 2:06 pm

افغانستان میں قیام امن کی کوششیں جاری ہیں۔ طالبان اور امریکا معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مسلسل مزاکرات کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین کے درمیان دوحہ میں مزاکرات کا نواں دور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں وفود تیکنیکی کمیٹیوں کی رپورٹس کا جائزہ لے جارہے ہیں۔ معاہدہ میں تعطل کا سبب بننے والے اعتراضات زیر بحث ہے۔ ذرائع کے مطابق جنگجو طالبان نے مزاکراتی ٹیم کو پیغام بھیجا ہے کہ عید پر غیر اعلانیہ جنگ بندی کے باوجود افغان حکومت اور امریکا کی جانب سے افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں جارہی ہیں۔ ان کارروائیوں میں درجنوں افراد مارے گئے۔ جنگجووں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان حکومت اور امریکی طیاروں کے حملوں کے بعد طالبان نے بھی جوابی حملے کیے اور وہ اب کابل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ طویل المدت معاہدے کے بجائے امریکا کو فوری افغانستان سے نکلنے پر مجبور کیا جائے۔ جنگجو طالبان نے داعش سے متعلق امریکا اور افغان حکومت کے کردار پر بھی شکوک شبہات ظاہر کیے ہیں۔ اسی طرح افغان حکومت ،، طالبان اور امریکی معاہدہ سے پہلے اپنے کردار کے بارے میں وضاحت چاہتی ہے۔ کہ معاہدہ کے بعد ان کا کردار کیا ہوگا؟ طالبان کو پورے افغانستان پر مکمل بااختیار نہیں بنانا چاہیے۔ دوحہ میں مزاکرات کو بہت قریب سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل ازد کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہر حال میں اس معاہدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ زلمے خلیل زاد دوحہ میں طالبان وفد کے ساتھ اعتراضات پر بات چیت مکمل کر کے کابل جائیں گے۔ امن معاہدہ سے متعلق زرائع کا کہنا ہے کہ معاہدہ کے کا مسودہ تیار ہو چکا ہے لیکن اس کا اعلان دونوں طرف کے اعتراضات دور کرنے کے بعد کیا جائےگا۔ یاد رہے امریکی صدر نے یکم ستمبر سے پہلے پہلے افغانستان کا امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان بھی امریکا کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔ طالبان مزاکرات کے کئی دور ماسکو، ریاض اور دوحہ میں ہو چکے ہیں۔ افغانستان کے اراکین اسمبلی اور سیاسی قیادت کا اجلاس پاکستان میں ہو چکا ہے۔ امن معاہدہ ہونے کے بعد افغانستان سے امریکی فوجیوں کی مرحلہ وار واپسی کا امکان ہے۔

Facebook Comments