August 22, 2019 at 2:03 pm

جینوسائیڈ واچ نے بی جے پی اور مودی گورنمنٹ کی جانب سے مسلمانوں کی نسل کشی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ میں واضع کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج تشدد، خواتین کی آبرو ریزی اور کشمیری نوجوانوں کے اغوا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔
پروفیسر باربرا ہرف نے بھارت کی طرف سے مسلمانوں کی نسل کشی اور کشمیر میں قتل عام کے بارے میں اگاہ کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے نسل کشی، قتل عام اور اس طرح کی ہلاکتوں کے لئے سزا مستثنیٰ تھی۔ کشمیر کی ابتر صورت حال کے بعد سرحدی علاقوں پر بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلح تصادم کا خطرہ ہے۔ بی جے پی کے ذریعہ ”ہندوتوا” کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ہندوستان کی حیثیت سے ہندو قوم کا ایک الگ نظریہ پیش کیا جارہا ہے۔ مودی سرکار اکثریتی مسلم شہریوں پر اقلیتی فوجی طاقت (ہندو اور سکھ) کے ذریعہ حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرنیٹ، میڈیا اور مواصلات کے تمام ذرائع بند کر دیے گئے ہیں۔ کشمیریوں کو بیرونی دنیا سے کاٹ کر رکھا گیا ہے۔ تجارت بھی نہیں ہو رہی۔ مقبوضہ وادی میں بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ کشمیریوں کو بے جا تشدد کا نشانہ جا رہا ہے۔ لوگوں کو بغیر کسی الزام کے نظر بند کیا جارہا ہے۔ تمام کشمیری رہنما قید کر دیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے رہنماوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں کشمیری قید و بند کی صعبتین برداشت کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ”دہشت گرد”، ”علیحدگی پسند”، ”مجرم” اور”باغی” کہا جاتا ہے۔ بھاری ہتھیاروں سے مسلح 6 لاکھ بھارتی فوج اور پولیس کا مقبوضہ وادی پر قبضہ ہے۔ بھارت کے سوشل میڈیا نے بہت زیادہ جھوٹ بولا اور منفی پروپیگنڈہ بھی کیا۔ مودی اور بی جے پی نے مسلم دشمنی کو ہوا دی۔ جینوسائیڈ واچ نے اقوام متحدہ اور اس کے ممبران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو کشمیر میں نسل کشی سے باز رکھیں۔

Facebook Comments