August 20, 2019 at 2:22 am

تحریر:سیدہ سفینہ ملک
آج کل کے معاشرے میں مقابلے چل رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کا، مذہبی تنظیموں کا اور سوشل میڈیا گروپس کا۔ ایسے میں ایک عجیب و غریب مقابلہ بھی دیکھنے کو ملا۔ “جنس کا مقابلہ” ۔کہ عورت اور مرد برابر ہیں۔ اور اس برابری کے نعرے کو(سب نہیں) بعض خواتین نہ جانیں کہاں کہاں استعمال کرتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں جب بھی اور جہاں بھی دیکھو مرد عورت کی برابری کی لڑائی چل رہی ہے،دونوں ایک دوسرے کو کم تر دکھانے کی کوشش میں لگے ہیں، آج تک ایک عورت خود کے وجود کو قبول نہیں کر پا رہی ہے اور مرد کی طرح بننے کی کوشش کررہی ہے۔ایک عورت کی ذمےداریاں کیا ہیں؟ عورت ہمیشہ خود کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ کسی مرد سے کم نہیں ہے،مردوں سے برابری کا مقابلہ اور حسد اُنکی اپنی زندگی تباہ کر دیتی ہیں۔اللہ نے عورت اور مرد کو جس طرح جسمانی طور پر مختلف بنایا ہے اُسی طرح اُنکے حصے میں کُچھ ذمےداریاں بھی ڈال رکھی ہیں۔ مگر عورت نےتو مرد سے برابری کرنی ہے مقابلہ کرنا ہے اُنکو احساس ہی نہیں ہے کہ اللہ نے عورت کو کتنا خوبصورت اور قیمتی بنایا ہے۔جس طرح ہیرا اور قیمتی جواہرات سنبھال کے رکھے جاتے ہیں کہ کہیں چوری نہ ہو ایسے ہی عورت کو بھی اللہ نے خوبصورت مقام عطا کیاہے۔اسے سلیقے سے رکھا جائے اُنکے کھانے پینے، پہنے اور رکھنے کی ذمےداری بھی ایک مرد کو دی ہے تاکہ ایک عورت کو کوئی تکلیف نہ ہو اور اُنکے ساتھ نرمی اور اچھائی کا سلوک کرنے کو کہا گیا ہے، اگر عورت کو کما کے مرد کو کھلانے کی ذمےداری دی ہوتی تو وہ کیا کرتی ؟بعض خواتین کہتی ہیں ہم بھی پڑھے لکھے ہیں ہم بھی کما سکتی ہیں اپنی ذمےداری خود اٹھا سکتی ہیں۔تو مرد نگہبان کیوں ہے؟
“مرد عورت پر نگہبان ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں”(القرآن)، بیشک خواتین بھی کما سکتی ہیں اور بعض کما بھی رہی ہیں مگر ایسے نہیں جیسے ایک مرد کماتا ہے بائیک میں بیٹھ کے آفس جاتا ہے مزدوری کرتا ہے ایک عورت کبھی بھی کہیں دور جا کے اکیلی مزدوری نہیں کر سکتی ہے؟کیونکہ اُنکی عزت کو خطرہ ہے اور وہ اتنا طاقتور نہیں ہے کہ خود کو بچا سکےبُری نظروں سے۔ سوائے خود کو چھپا کے چلنے سے ،معاشرے میں سارے لوگ تو اچھے نہیں ہوتے اور ایک عورت کبھی بھی اکیلی ایک بائیک لے کر کام پر نہیں جا سکتی اُنہیں تو گاڑی کی فرنٹ سیٹ میں جگہ چاہیے یا اپنی گاڑی ہو اور مرد کو تو گاڑی کے آخری کونے میں یا گاڑی کے پیچھے ہی لٹکنا پڑتا ہے ،اگر مرد کی برابری ہی کرنی ہے توکیا گاڑی کے پیچھے لٹک کے دفتر یا کام پر جاسکتی ہے۔ کیا خواتین مستری، میکینک یا مزدوری کرسکتی ہے؟ روڈ کے پتھر توڑ سکتی ہے؟ یابہت سے ایسے کام جو صرف مردوں تک مختص ہیں نہیں کر پاتیں ،خواتین یہ چھوٹے کام نہیں کرینگے اُنہیں کوئی ایسا کام چاہیے جو آسان ہو جس میں اُنکو آرام ہو آفس ہو یا اسکول ٹیچنگ کا کام ہو وہ مشکل کام نہیں کر سکتے،اور تو اور وہ کوئی بھاری چیز بھی نہیں اٹھا سکتیں کیونکہ اس وقت انہیں اپنی صنف نازک ہونے کا احساس ہوتا ہے تعجب ہے ان سب کے باوجود بھی کچھ خواتین مرد کی برابری پر ہی تل جاتی ہیں، اُنہیں پڑھائی کی اجازت ملی ملازمت کی اجازت ملی اِس پر مردوں کو یہ طعنہ ملتا ہے کہ مرد اپنے گھر کا خرچ پورا کرنے کے لئے عورت سے کام کرواتا ہے کیسا مرد ہے جو عورت کی کمائی کھاتا ہے مگر وہ بےچارہ مرد کرے تو کیا کرے۔۔کام کرنے کی اجازت دے تو لالچی۔۔۔نہ دے تو عورت پر ظلم کرنے والا ظالم۔۔خواتین کا یہ ماننا ہے وہ پڑھے لکھے ہیں ملازمت کرتی ہے پیسے کماتیں ہیں اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہیں اُنہیں کسی مرد کی ضرورت نہیں ہے بیشک وہ خود کر سکتی ہیں آزادی بھی ملی ہے۔۔ مگر کیا ایک عورت اکیلی اس معاشرے میں چل سکتی ہے؟ ہاں اگر کسی عورت کو عزت کی پرواہ نہ ہو شاید وہ چل بھی سکے،مگر سوال یہ ہے کیا اُنکی عزت محفوظ ہے؟ اگر ایک عورت گھر سے نکلتی ہے تو کتنی خونخوار نظریں ان کا تعقب کرتیں ہیں۔ کیا اُنکا مقابلہ کر سکتی ہے بچا سکتی ہے؟ معاشرے میں جہاں اچھے لوگ بھی ہے وہاں بہت سے درندہ صفت لوگ بھی ہے جن کی شر سے خود کو بچانا ہوتا ہے۔ “شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈال کر چھپ جاتا ہے۔
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے”(القرآن)
اسلئے ایک عورت کو بہت ہی محتاط رہنا پڑتا ہے۔ وہ اتنا مضبوط نہیں ہے جو ان سب کا مقابلہ کر سکے اسلئے اللہ نے مرد کو عورت کا نگہبان بنایا ،چاہے وہ باپ کے رُوپ میں ہو بھائی یا شوہر کےروپ میں ،مرد ہمیشہ سے عورت کی ڈھال بنتا ہے۔مگر یہ برابری کے چکّر نے بعض خواتین کو چکرا کے رکھ دیا ہے۔ اس مقابلے میں کہیں عورت اپنا محافظ نہ کھو دے جو اللہ نے اسے اس کی حفاظت کے لئے دیا ہے۔اللہ نے مرد کا درجہ بڑھا کر عورت کو نجانے کتنی تکالیف سے نجات دلایا ہے۔جو وہ شاید ہی سامنا کر پاتی۔قدر کیجئے اگر آپ عورت ہو جنکی عزت کی حفاظت کی ذمےداری اللہ نے مرد کو دے کے اُن کو کتنی مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات دلایا ہے، اور مرد کتنی تکالیف اورمصیبتیں برداشت کرکے آپ کے اوپر آنچ انے نہیں دیتا، کتنے لوگوں کی گالیاں سنتا ہے محنت مزدوری کرتاہے،دھوپ ،بارش ،گرمی،سردی سب برداشت کر کے آپ کے آرام اور سکون کا انتظام کرتا ہے مگر پھر بھی آپ اُن سے مقابلہ کرکے کہیں اپنی ڈھال کھو نہ دے؟ اور اپنا ہی نقصان نہ کردے۔

Facebook Comments

Tags: