August 18, 2019 at 9:28 pm

بھارت کی انتہاپسند مودی سرکار نے کشمیر کے بعد آسام کے مسلمانوں پر بھی حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ چالیس لاکھ سے زائد بھارتی شہری غیرملکی مہاجر قرار دینے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ متنازعہ کشمیر پر قبضے کو نئی شکل دینے کے بعد بی جے پی کی انتہاپسند مودی حکومت آسام کے پیچھے پڑ گئی۔ پہلے امریکی میڈیا بھارت کی سیاہ کاریوں پر خاموش رہا کرتا تھا۔ اب تو نیویارک ٹائمز نے بھی بی جے پی کی انتہاپسند مودی حکومت کی انسانیت دشمن پالیسی پر رپورٹ دی ہے۔ بھارتی ریاست آسام، بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد وں پر واقع ہے۔ یہاں تین کروڑ تیس لاکھ بھارتی شہریوں کو ایک انوکھا حکم جاری کیا گیا۔ کہا گیا ہے کہ دستاویزی ثبوت کے ذریعے ثابت کرو کہ 1971ع میں بنگلہ دیش کے قیام سے قبل تم یا تمہارے اجداد بھارتی شہری تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مودی سرکار نے بھارتی پارلیمنٹ سے ایک بل منظور کروانے کی کوشش بھی کی۔ بھارتی حکومت ہندوؤں، بدھ مت اور عیسائی شہریوں کو مستثنیٰ قرار دے کر صرف مسلمان شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ یعنی مسلمان اپنے بھارتی شہری ہونے کو ثابت کریں۔ حالانکہ جن شہریوں کو غیر ملکی مہاجر ہونے کے شبے میں پکڑا جارہا ہے وہ بھارت ہی میں پیدا ہوئے۔بھارت کے رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ بعض تو فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ مگر اب ہندو انتہاپسند حکمران جماعت مسلمان شہریوں کی شہریت کو منسوخ کرنے کی سازش پر عمل کررہی ہے۔
آسام میں قید خانوں اور عدالتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان بھارتی مسلمان شہریوں کو گرفتار کرکے قید خانے منتقل کرکے مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ ان پر بدترین تشدد کیا جارہا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ بھارت کے وزیر داخلہ ہیں وہ بھارت کے بنگالی مسلمانوں کو “دیمک” کہتے ہیں۔
دانشور بی جے پی حکومت کی اس پالیسی کے خلاف، بھارت میں حزب اختلاف، مسلمان اور بائیں بازو کے مہم چلارہے ہیں۔ وہ اس متعصبانہ پالیسی کو مستردکررہے ہیں۔ لیکن، مودی حکومت ہندوؤں کے مذہبی جذبات سے کھیل رہی ہے۔ مودی حکومت مذہب کی بنیاد پر بھارتیوں کو تقسیم کررہی ہے۔
مگر پوری دنیا مودی حکومت کے ان اقدامات پر خاموش ہے۔او آئی سی، عرب لیگ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت سارے بین الاقوامی فورم خاموش ہیں۔ آسام کے مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں۔لیکن،،انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی عالمی برادری کی طرح بے حس و حرکت ہیں۔ مودی حکومت آسام میں بھی مسلمان شہریوں کو انکے پیدائشی حق یعنی شہریت سے ہی منسوخ کررہی ہے۔ آسام کے مسلمان بھی فریادی ہیں۔ہے کوئی جو ان مظلوموں کی داد رسی کرے؟!!

Facebook Comments