August 18, 2019 at 7:52 pm

پی ٹی آئی حکومت نے پہلا سال انتخابی منشور اور اعلانات پر یوٹرن لیتے گذاردیا۔ حکومت نے اپنا پہلا سال تو مکمل کرلیا،،لیکن،، منصوبے بہت کم مکمل کرسکی۔ انتخابی منشوراور عمران خان صاحب کے بہت سے وعدوں پر عمل نہ کیا جاسکا۔ کیونکہ پی ٹی آئی حکومت یوٹرن لیتی رہی۔
حکمران جماعت نے منشور میں میثاق مدینہ کی بات کی،،، لیکن،،،
معاشرے میں کہیں اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آیا۔ بلکہ چوری کے الزام میں پندرہ سالہ بچہ بے دردی سے سڑک پر ماردیا گیا۔
بانی پاکستان کے تاکید کردہ اسلام کے سوشل جسٹس نظام پر تاکید کی گئی،،،، لیکن،،،،
اس ایک سال میں سماجی انصاف ہوتا نظر نہیں آیا۔
احتساب کے نام پر مخالف سیاستدان تو پکڑے گئے۔،،، لیکن،،،
مبینہ لوٹی ہوئی قومی دولت تاحال قومی خزانے میں واپس نہ لائی جاسکی۔
قومی شاعر علامہ اقبال کا یہ شعر منشور کا حصہ رہا کہ:
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
لیکن خارجہ پالیسی مکمل طور پر قصر سلطانی کے گنبدوں پر بسیرا کرتی نظر آئی۔ جس وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا، اسکو سلاطین کی آؤ بھگت کے لیے استعمال کیا گیا۔
اقتصادی پالیسی کے بھی کیا کہنے، کشکول توڑنے، قرض لینے پر خود کشی کو ترجیح دینے، کے وعدے کئے گئے ،،، لیکن، ،،
ایک سال کے دوران اس کے بالکل برعکس کیا گیا۔ نہ صرف خلیجی عرب ممالک سے اور چین سے بلکہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے بھی قرض لیا۔ روپے کی قدر میں تاریخی کمی ہوئی، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ بجلی و گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔
نہ تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور وسائل فراہم کئے گئے، نہ ہی کراچی کے مسائل کو حل کیا گیا۔
سوائے کشمیر ایشو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل میں لانے کے خارجہ محاذ پر کوئی بڑا کارنامہ نظر نہیں آیا۔ ملکی سطح پر فاٹا، خیبر پختونخواہ انضمام سے زیادہ نمایاں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔سستی ہاؤسنگ اسکیم پر ابتدائی نوعیت کے کام کا آغاز ہوا، اور وہ بھی سست رفتاری سے۔

Facebook Comments