پی ٹی آئی اسٹاک مارکیٹ کیلیے ڈراونا خواب بن گئی ‬

شیئر کریں:

پی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے ڈراونا خواب ثابت ہوا،، بینچ مارک انڈیکس 33 فیصد گر گیا ،، سرمایہ کاروں کے دو ہزار سات سو ستاسی ارب روپے ڈوب گئے،، ایک سال میں مارکیٹ آگے کی بجائے پانچ سال پیچھے چلی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال اقتصادی، سیاسی صورتحال میں بے یقینی اور سال کے آخری چند ماہ کشمیر میں سرحدوں پر کشیدگی نے اسٹاک مارکیٹ کو شدید مندی کا شکار رکھا،، پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر 13 ہزار 682 پوائنٹ کی کمی رکارڈ کی گئی،، اور انڈیکس 42 ہزار 446 سے کم ہو کر 28 ہزار 764 پر آ گیا،، اس سے قبل اگست 2014 میں ہنڈرڈ انڈیکس اس سطح پر تھا،، سال کے دوران مارکیٹ میں سرمایہ کاری پر اوسطا پاکستانی روپے میں 33 فیصد خسارہ ہوا،، جبکہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے نقصان کی شرح 47 فیصد تک پہنچ گئی،، بلوم برگ کے اعداد و شمار کے مطابق نقصان کی یہ شرح خطے کی تمام اسٹاک مارکیٹوں سے زیادہ ہے،،  18 اگست 2018 سے اب تک شئیرز کی مجموعی مالیت 27 کھرب 87 ارب روپے کی کمی سے  59 کھرب 16 ارب 49 کروڑ روپے رہ گئی۔ ڈالر میں شئیرز کی مجموعی مالیت 70 ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف 37 ارب ڈالر رہ گئی۔ مارکیٹ میں کاروبار بھی اوسطا 14 فیصد کم ہوا۔


شیئر کریں: