August 16, 2019 at 2:19 pm

سروں کے بے تاج بادشاہ، عالمی شہرت یافتہ قوال اور گلوکار استاد نصرت فتح علی خان کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور اپنی منفرد گائیکی کی بدولت پوری دنیا میں نام پیدا کیا، وہ قوالی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ نصرت فتح علی خان نے “مینوں سوچاں دیا ں دے گیا سوغاتاں، سُن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک، دم مست قلندر مست مست، آ جا تینوں آکھیاں اُدیک دیاں، آفریں آفریں، میری توبہ توبہ، تم اک گورکھ دھندا ہو، کوئی جانے یا نہ جانے” سمیت سینکڑوں نغمات اور قوالیاں گا کر بے حد شہرت حاصل کی۔
دنیا آج بھی شہنشاہ قوال کی خوبصورت آواز کے سحر میں جکڑی ہوئی ہے، ان کا گایا ملی نغمہ ‘‘میرا پیغام پاکستان’’ خوب مقبول ہوا اور استاد نصرت فتح علی خان نے ’’جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم‘‘ گیت گا کر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
مشرقی اور مغربی موسیقی کا شاندار امتزاج پیش کرنیوالے نصرت فتح علی خان نے کئی ایوارڈز اپنے نام کئے۔ وہ 48سال کی عمر میں 16 اگست 1997 کو لندن میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی برسی کے موقع پر موسیقی کے وابستہ لوگوں نے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

Facebook Comments