August 15, 2019 at 1:46 pm

دنیا بھر کے کشمیریوں کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری سطح پر بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جا رہا ہے، سرکاری اور نجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہیں۔
دنیا بھر کے کشمیری ہر سال بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، مودی سرکار کی جانب سے راتوں رات مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے، نہتے کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم اور کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات کے باعث پاکستان نے بھی 15 اگست کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا۔
بھارتی حکومت نے 5 اگست کو اٹھائے گئے حالیہ غیر آئینی اقدامات سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر کی انتہا کردی۔ مقبوضہ وادی میں کئی دہائیوں سے 7 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے اس کے باوجود مزید ایک لاکھ 80 ہزار بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر بھجوا دیئے گئے جنھوں نے پوری وادی کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ ہی کاٹ کر رکھ دیا۔
بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام پر مظالم اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے ذیلی اداروں کی حالیہ رپورٹس بھی مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک اور تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سب سے مستند ثبوت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر آفس کی حالیہ غیر جانبدارانہ رپورٹس ہیں۔ پاکستان پہلے دن سے ہی ان رپورٹس کی سفارشات کو تسلیم کر رہا ہے جبکہ بھارت مسلسل انکاری ہے۔
حکومت پاکستان کا 15 اگست کو یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کوششیں نہ کی گئیں تو یہ تشویشناک صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے شدید خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

Facebook Comments