July 15, 2019 at 10:36 pm

تحریر :سید تبسم عباس شاہ
میرے پاس فلاں جسٹس،جج ،فلاں آئی جی پولیس،فلا ں جوائنٹ سیکرٹری اور فلاں افسر کی بیٹی کی ویڈیوز موجود ہیں،اس طرح فر فر اس نے تین درجن سے زائد اہم سرکاری افسران کے نام سنا دیے کہ ان کی قابل اعتراض ویڈیوز اس کے پاس موجودہیں،یہ سن کراسے کہا کہ یہ تو سو فیصد جھوٹ ہے ،جس پروہ تلملا کر کہنے لگاکہ آپ پہلے میرے ساتھ چلیں ،یہ ویڈیوزدکھاتا ہوں ،اس کے بعد آپ کی مرضی ہے یقین کریں یا نہ کریں۔صحافتی تکنیک استعمال کرنے اور جوش دلانے پر چند منٹوں میں ہی وہ پھٹ پڑا اور اس نے اپنے سارے کرتوت بیان کر دیے۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ یہ ساری باتیں ایک صحافی کے سامنے کر رہا ہے اور اس کی گفتگو ریکارڈ ہو رہی ہے ۔یہ معاملہ سابق صدر مشرف دور کے اوائل سن2000ء کا ہے ۔ہمارے ذمے دفتر کی طرف سے مذکورہ بلیک میلر کی تحقیقات تھیں جو کہ مکمل کر کے بمعہ ریکارڈنگ خبر دفتر فائل کر دی تھی ۔اس گفتگو میں اتنے بڑے لوگوں کے نام تھے کہ انہیں اخبار میں شائع کرنے سے بھونچال آجاتا اس لیے شائع نہیں کیا گیااس طرح یہ معاملہ منظر عام پر نہیں آسکا ۔
پہلے سنتے تھے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن اب تو عملی طور پرسب نے دیکھا ہے کہ دیواروں کی آنکھیں بھی ہوتی ہیں جومنظرریکارڈکرنے کے ساتھ ساتھ آواز بھی محفوظ کرلیتی ہیں۔جنھیں بعدازاں کسی وقت بھی منفی یا مثبت اندازمیںاستعمال کیا جاسکتا ہے۔ پہلے تو ریکارڈنگ کیلئے ٹیپ یا بڑے ویڈیو کیمرے استعمال کیے جاتے تھے لیکن اب تو ٹیکنالوجی کی ترقی کے بعد موبائل کیمرے کے ساتھ ساتھ قلم،قمیض بٹن،عینک اور کی چین،گاڑیوں کے ریموٹ سمیت مختلف شکل میں کئی ایک ایسے خفیہ کیمرے مارکیٹ میں آچکے ہیں جن میں 10GBسے زائد ویڈیو،آڈیو کی ریکارڈنگ باآسانی خفیہ طورپرکی جاسکتی ہے ۔اس لیے جو لوگ ان چیزوں کو جانتے ہیں وہ کسی سے مذاق میں بھی ایسی بات نہیں کرتے جوکہ بعدازاں قابل مواخذہ ہو۔
پہلے تو خفیہ کیمروں کاشکار کم پڑھے لکھے لوگ ہوجاتے تھے لیکن اب تو چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال بھی اس کا شکار ہوئے ہیں حالانکہ عمر کے جس حصے میں ہیں یا جن مناصب پرماضی (سپریم کورٹ کے قائمقام چیف جسٹس اورہائیکورٹ کے چیف جسٹس)رہے ہیںاورجن مناصب پر اس وقت براجمان ہیں، انھیں کسی صورت اتنی گھٹیا حرکتیں زیب نہیں دیتیں۔اس صورتحال سے چیئرمین نیب کو نقصان نہیں ہوا جتنا انصاف سے وابستہ اداروں کی ساکھ کو ہوا ہے۔لگتا ہے کہ ملزم اور مدعی اس طرح کا ہی اخلاقی طورپرکمزور چیئرمین نے چاہتے ہیں اور شایداسی لیے جسٹس (ر) جاویداقبال کے” مشاغل” کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی احتساب بیورو کا چیئرمین بنایا گیا۔ ہمارا قومی المیہ یہ کہ ہم مخالفین کاتو کڑا احتساب چاہتے ہیں لیکن خود ادنی درجے کا بھی احتساب ایفورڈ نہیں کرسکتے۔ بعض حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ احتساب کے عمل پر اگر باکردارلوگ لگ جائیں تو وہ کسی کی بات نہیں سنتے اس لیے اکثر اوقات زیادہ دیانتداری کو بھی ان کی Disqualificationسمجھا جاتا ہے۔چونکہ من حیث القوم ہم دیانتدارنہیں ہیں اسی لیے احتساب کیلئے بھی زیادہ دیانتدار آدمی برداشت نہیں کرسکتے ۔اب ناقدین یہ کہتے ہیںاگر سپریم کورٹ ،ہائیکورٹ کے چیف جسٹس رہنے والے چیئرمین نیب کی ویڈیو آسکتی تو ارشدملک سابق جج احتساب عدالت کس باغ کی مولی ہیں۔
آغاز میں سب سے پہلے ایک اہم مذہبی سیاسی شخصیت کی جی ایٹ کی رہائشی میڈم طاہرہ نائیکہ کے ساتھ غیر اخلاقی ویڈیو منظر عام پر آئی جس کے بعد ان کانام اسلام آباد کے حلقوں میں مولانا سینڈوچ پڑ گیا ۔یہ ویڈیو ایس ایچ او مارگلہ نے تھانے میں تاجروں کو دکھائی ۔ اس کے بعد اس حوالے سے خبریں مختلف اخبارات کی زینت بنیں جس پر کچھ صحافیوں کوعتاب کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے بعد تمام لوگ محتاط ہو گئے اور کوئی بڑا سکینڈل منظر عام پر نہیں آسکا ۔مشرف دور میں کراچی سے تعلق رکھنے والے نیب میں اسیر ملک کے بڑے صنعتکار کے بارے میں انکشاف ہوا تھا کہ انھوںنے سو کے لگ بھگ اہم سرکاری افسران سمیت سندھ کی مذہبی سیاسی شخصیت کی ویڈیوز بنا رکھی ہیں ۔جنرل مشرف کی اپنی اس وقت کے چیئر مین سی بی آر عبداللہ یوسف کے ہمراہ سیکرٹریز کمیٹی کے زیر اہتمام ماہانہ ڈنر (جس میں تمام وفاقی سیکرٹریز بمعہ بیگمات شرکت کرتے تھے)میں”سانوں نہر والے پل تے بلا کے ”گانے پر ڈانس کی ویڈیو پی ٹی وی کے کیمرا مین نے لیک کر دی ۔سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور ان کی فیملی کی قابل اعتراض تصاویر ان کے بیٹے کے لیپ ٹاپ سے مکینک نے کاپی کر کے پھیلا دیں ۔پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں وزارت اطلاعات کے ایک وفاقی سیکرٹری کی لاہور میں غیر اخلاقی سرگرمیوں پر مبنی ویڈیوز کیمرا مین نے بنا لیں ۔جس پر انہیں بلیک میل ہو کر مذکورہ کیمرا مین کو مختلف چینلز میں بغیرکام کے ب کافی عرصہ تک تنخواہ دلوانی پڑی۔2016 ء میں اسلام آباد میں رہنے والے بھکر کے ایک مولوی کی انتہائی مقدس ایام میں پہلے مولویانہ لباس میں پھر لباس سے بے نیاز قدرتی حالت میں ویڈیو بن گئی جس میں مقدس ایام کی تمام کمائی مولوی صاحب عیاشی پروگرام میں ”ملتانی سویٹ ” کے نام سے لٹا تے نظرآتے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی پہلی ویڈیو بھی ملتان میں بنی جس میں بقول جنرل امجد شعیب مزید پانچ معزز جج صاحبان کی ویڈیو زبھی شامل ہیں۔نوازشریف دورمیں دھرنے کے دنوں میں ملک کی ایک اہم سیاسی شخصیت کی کئی غیراخلاقی ویڈیوز ان کے قریبی دوستوں کی بارباروارننگ کے باوجود بنیں،دعا کریں کہ یہ ویڈیو ز منظرعام پرنہ آئیں۔ان ویڈیوز کے بارے میں عام طورپریہ خیال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی کی بھی ذاتی زندگی سے متعلق ہیں اس لیے یہ اوپن نہیں ہونی چاہیے لیکن آئین پاکستان کہتا ہے کہ جو شخص بھی عوامی عہدہ رکھتا ہے اس کی زندگی عوام کی پراپرٹی ہے کچھ ذاتی نہیں ہے اس کے متعلق تمام ترمعلومات رکھنا عوام کا حق ہے۔
اگر چیئرمین نیب کیخلاف کاروائی نہیں بنتی تو ارشد ملک کو بھی معافی ملنی چاہیے ۔ اس طرح کا غیراخلاقی پس منظر رکھنے والا گواہ چھوٹی سے چھوٹی عدالت کے لیے ناقابل قبول ہوتاہے۔جو خودقابل احتساب ہوجائیں انھیں احتساب کے منصب سے ہٹ جانا یا ہٹادینا چاہیے۔
انتہائی اہم بات یہ ہے کہ احتسابی عمل سے وابستہ اہم شخصیات کاتعلق ضلع راولپنڈی کے قصبہ مندرہ سے ہے۔احتساب عدالت کے سابق جج ارشدملک کا تعلق مندرہ کے نواحی گائوں ارجن سے ہے جبکہ وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاداکبر کا گائوں گمٹی سے ارجن سے چارپانچ کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے ۔میاں نواز شریف کے معتمد خاص پیرارشد قریشی بھی گمٹی کے ہیں اور میاں صاحب انکے گھر گمٹی جاچکے ہیں۔اس لیے مختلف لوگ اپنے اپنے حساب سے اسکی مثبت یا منفی تشریح کررہے ہیں۔تحصیل گوجرخان اپوزیشن سے وابستہ سیاسی شخصیات میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری کے احتساب کے عمل مندرہ کے تناظر میں شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
جج ارشد ملک پر پانچ مولویوں کے لطیفے میں سے سب سے پہلے کھیر کھاجانے والے مولوی کا کردار سوفیصد صادق آتا ہے جنھیںکسی گھر سے ایک پلیٹ کھیر تحفہ یا شیرینی کے طور پر ملی ، بندے پانچ ہونے کے باعث طے ہوا کہ کھیر وہ کھائے گا جو صبح سب سے اچھا خواب سنائے گا ۔ صبح چارمولویوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر روحانی خواب سنائے ، پانچویںنے خواب سنا کر چاروں کونہ صرف حیران بلکہ پریشان کرتے ہوئے بتایا کہ رات کو حضرت عزرائیل علیہ السلام خواب میں تشریف لائے اور کہا کہ ابھی اٹھو اور فورا کھیر کھائو ورنہ تمھاری روح قبض کرلوں گا، جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی ڈر کے مارے اٹھا اورانکے حکم کی تعمیل کرتے ہوتے ہوئے اسی وقت ساری کھیر انتہائی دیانتداری سے کھا کراپنی جان بچائی۔ بالکل اسی طرح جج ارشد ملک نے بلیک میلنگ کے خوف سے پہلے منشیات کیس کے ملزم کے بھائی میاں طارق سے اپنی ویڈیو بنوائی ، پھر اسی ویڈیو کی بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے میاں نواز شریف سے جاتی امرا اور عمرے کے دوران حسین نواز سے ملا۔مریم نواز کہتی ہیں کہ جج صاحب کو کسی نے انکی غیراخلاقی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کرتے ہوئے میاںنوازشریف کیخلاف فیصلہ کروایا۔ جس کی وجہ سے جج صاحب کو نیند نہیں آتی، ڈرائونے خواب آتے ہیں ، انکے ضمیرپر شدید بوجھ ہے اور یہ بوجھ اتارنے کے لیے عمرے پر گئے۔ جج صاحب کی موجودہ کیفیت پر منیرنیازی صاحب کے چنداشعار پیش خدمت ہیں
کس دا دوش سی کس دا نئیں سی۔۔۔۔اے گلاں ہن کرن دیاں نئیں
ویلے لنگ گئے ہن توبہ والے۔۔۔۔راتاں ہن ہوکے بھرن دیاں نئیں
جو ہویا او تے ہونا ہی سی۔۔۔۔تے ہونیاں روکے رکدیاں نئیں
اک واری جد شروع ہو جاوے۔۔۔۔تے گل فیر ایویں مکدی نئیں
کج انج وی راہواں اوکھیاں سن۔۔۔۔کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن۔۔۔۔کج سانوں مرن دا شوق وی سی

احتساب سے وابستہ شخصیات کی ویڈیوز منظرعام پر آنے سے احتسابی عمل مذاق بن چکا ہے۔سناہے کہ آنے والے دنوں میں احتساب سے متعلقہ مزید کچھ شخصیات کی ویڈیوزبھی منظرعام پرآسکتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تویہ احتسابی عمل کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔
آخرمیں مولا علی علیہ السلام کا فرمان : کہ” مومن وہ ہے جس کی محفل نہیں تنہائی بھی پاک ہو”

Facebook Comments