July 11, 2019 at 5:22 pm

تحریر زیشان یسین

‎ہاں ذیشان بولو!” مرید نے فون اٹھاتے ہی”
‎بے تکلفی سے کہا۔
‎بھائی کہاں ہیں۔” ؟”
میں نے پریشانی سے پوچھا۔
‎یار آفس میں لاک ڈاؤن ہوچکے ہیں۔ “
باہر نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ لوگوں نے مین ڈور پر تالے ڈال دئیے ہیں۔ میں نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ “
اس نے صورت حال بتائی۔
‎ہ“ہاں! مجھے اطلاع ملی اسی لیے فون کیا۔ کوئی ضرورت نہیں نکلنے کی۔ رات چینل میں ہی گزارو۔ صبح تک حالات بہتر ہوجائیں گے۔ پھر چلے جانا گھر”۔۔
میں نے اسے تنبیہ کی۔
‎ اوکے باس”۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔”
‎پھر رات کے ڈھائی بجے اس کا میسج آیا کہ وہ گھر پہنچ گیا ہے۔
‎یہ واقعہ غالبا پچھلے سال کے اواخر کا ہے۔ بول کے ناراض کارکنوں نے دفتر کا گھیراؤ کرلیا تھا اور بہت سے لوگ چینل میں محبوس ہوکر رہ گئے تھے۔ انہی میں مرید عباس کھر بھی تھا۔ جوبچہ نویں کلاس میں میانوالی کے ٹیوب ویل کی تنگی داماں سے اکتا کر کراچی کے سمندروں کا سینہ چیرنے اور اس بےرحم شہر میں ہجرت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، وہ کہاں ایسی پابندیوں کو خاطر میں لاتا۔ مرید نے بول کے عقبی حصے کی دیوار کے ساتھ لمبی سیڑھی لگائی، خاردار تاروں تک پہنچا اور برابر والے خالی پلاٹ میں کود گیا۔ کپڑے جھاڑے اور گھر کو روانہ ہوگیا۔ وہ جری آدمی تھا۔ حالات اسے کبھی ہرا نہ سکے، ہاں دوستوں سے جان بوجھ کر ہار جاتا تھا۔ اور اس مرتبہ تو دوست کے ہاتھوں جان سے ہی ہار گیا۔
لامبا قد، مسکراتا چہرہ، چمکتی آنکھیں جن میں کامیابیوں کے کئی خواب بسے تھے۔ اور اس نے ان خوابوں کو بزور بازو حاصل کرکے دکھایا تھا۔ وہ ایک سیلف میڈ انسان تھا۔ اس کی انتھک جدوجہد کی کہانی آپ سنتے جاتے ہیں اور حیران ہوتے جاتے ہیں۔
تیرہ سال کا ایک بچہ برسوں پہلےگھروں میں کام کرنے میانوالی سے کراچی آیا،گھر والوں نے بچے کی صلاحیتیں اور پڑھنے لکھنے کا شوق دیکھتے ہوئے اُسے پڑھایا، اُس نے بھی خوب محنت کی۔ ایک دن وہ اینکر بن گیا، ایک ایک کر کے سب خواب پورے ہونے لگے۔
‎اس کا نام مرید تھا لیکن وہ جس سے ملتا اسے اپنا مرید بنا لیا کرتا تھا۔ چند ماہ پہلے جب اس نے فون کرکے مجھے بھی عاطف کے کاروبار میں شیئر ڈالنے کے لئے کہا تب مجھ پرکھلا کہ وہ اچھی خاصی رقم اسے دے چکا ہے۔ کچھ اینکر اور صحافی دوستوں کے نام بتائے کہ وہ بھی شامل ہیں اور منافع لے رہے ہیں۔ میں نے اپنی مالی پریشانیوں کے باعث پس و پیش کی تو اس نے کمال مہربانی سے بات کا رخ ہی پلٹ دیا۔ اسے دوستوں کا بھرم رکھنا آتا تھا۔
میڈیا کے بدترین بحران میں جب ورکرز دو وقت کی روٹی کو ترس رہے تھے۔ نجانے کتنے تھے جن کے گھر مرید کی مدد سے چل رہے تھے۔ مرید نے کبھی مجھے اجازت نہ دی کہ ان لوگوں کو مرید کا نام بتاؤں۔ وہ کہتا تھا۔
“بھنک بھی نہ پڑنے دینا۔ ورنہ فائدہ کیا۔ “
اور وہ لوگ جن تک مرید کی مدد پہنچتی تھی، وہ مجھ سے پوچھتے تھے کہ بتاؤ تو سہی کون تمہارے ہاتھوں پر ہمارے حصے کا رزق رکھ جاتا ہے۔ میں نے کبھی زبان نہ کھولی کہ مرید نے کبھی اجازت نہ دی۔ قریب ترین دوستوں کو بھی علم نہیں۔ آج ان سب کو بتانا چاہتا ہوں۔ وہ مرید ہی تھا جس کے دم سے تمہارے چولہے جل رہے تھے۔ مگر آج وہ ہمارے سینوں کو دھکتا چھوڑ گیا ہے۔ کبھی نہ ختم ہونے والی یاس ہمارے ماتھوں پر ثبت کرگیا ہے۔
کبھی میں فون کرتا اور وہ نہ اٹھاتا تو بعد میں کال بیک کرتا تھا۔ میں طنزاً کہتا کہ بڑے آدمی ہو۔ تو وہ عاجزی سے کہتا۔
“بڑے شہر کا چھوٹا سا آدمی ہوں۔”
نہیں مرید تم غلط تھے۔
جوں جوں اس شہر میں دولت کے انبار لگتے جارہے ہیں شہر انسانوں کے لئے چھوٹا پڑتا جارہاہے۔
تم چھوٹے سے شہر کے بڑے آدمی تھے۔

Facebook Comments