July 8, 2019 at 3:51 pm

تحریر عمران اطہر
عام ؟ آدمی ؟ یہ عام آدمی کیا ہے؟ یہ ایک سوال ہے، خیال ہے ،سوچ ہے، فکر ہے ، اس پر تبصرہ تجزیہ ، اس کی کوئی خبر تک نشر نہیں ہوتی۔اور یہ عام آدمی کہاں پایا جاتاہے۔اس کا تعلق کن چیزوں سے ہوتاہےان باتوں کا ادراک کیسے ہوگا یا کیسے کیا جاسکتا۔؟
گل خان میرے آفس کے نیچے چائے بنانے والا ہے۔ ہمشیہ مشکل وقت اور حالات کی باتیں کرتا ہے۔ مہنگائی اس کی سب سے بڑی دشمن رہی ہے۔ اس کو خوف آتا ہے جب سنتا ہے بجلی مہنگی گیس مہنگی پانی گھر میں دستیاب نہیں بچوں کی اسکول کی فیس کپڑے روزہ مرہ کے اخراجات۔ بار بار سوال کرتا ہے یہ حکومت کیا کررہی ہے۔ بہتر ہے وہ ہر آدمی کو گولی مار دے بجائے اس کے ہم سب سسک سسک کے مریں ایک بار ہی مرجائیں تواچھا ہے۔!!!
تبدیلی کی بات کرنے والے حکمرانوں نے ایک عام آدمی کی زندگی کے بدلنے کے لیے اب تک کچھ ایسا نہیں کیا ہے کہ ہم کہیں کہ اب تبدیلی آرہی ہے۔ ٹیکس وصول کرنے والی اس حکومت نے کوئی ایسا پروگرام، کوشش ہرگز نہیں کی جس کا براہ راست ایک عام آدمی کی زندگی کی بہتری پر فرق آسکے۔ پھر خوش حالی کب آئے گی؟ جب ہماری زندگیاں مٹی اوڑھ کر سو جائے گی ؟؟کیا پھر یہ تبدیلی ہمارے لیے نہیں اگر ہماری آنے والی نسلیں زندہ رہیں تو یہ کیا ان کے لیے ہے۔
کوفت پریشانی اضطراب میں ہم سب ہے جو گھٹ گھٹ کر جینے کے اس عمل میں کارفرماں ہیں۔ کئی حکومتیں بدلی گئیں فوجی آمر آئے نظام بدلے حکمران بدلے مختلف پارٹیوں سےتعلق رکھنے والے لیڈروں کی وفاداریاں بدلی۔ قول و فعل بدلے نہیں بدلے تو ہمارے حالات نہیں بدلے۔ خوشحالی کا خواب اب تک ہم سے کوسوں میل دورہے۔ ٹیکس کلکیشن کرنے والے یہ حکمران اتنا پیسہ اکھٹا کرکے کیا کریں گے؟ کس کے لیے یہ سب ہورہا ہے؟ کہاں یہ اعلان کیا گیاہے کہ ان پیسوں سے ہم یہ کرنے جارہے ہیں عام آدمی سے تعلق رکھنے والی ہر چیز مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ نہ اس کے لیے تعلیم سستی ، نہ اس کو صحت کہ کوئی بہتر سہولیات میسرکی جارہی ہیں۔ گیس بجلی مہنگی اور پھر اس پر سونے پر سہاگہ ٹیکس کلکیشن ہے ہر چیز پر ٹیکس لینے والے حکمران کیا کرنے جارہےہیں اس کا ہم میں سے کسی کو پتا نہیں۔
پاکستان میں ایک ہی مسئلہ ہے وہ ہے نواز شریف کی جیل کہانی یا پھر زرداری کا نیب میں ہونا عام آدمی کی خبر آج تک ہیڈ لائن میں نہیں لگتی۔ دیکھا ہے کسی نے بھوک سے بچوں کو ماردیا ہے؟ باپ نے بیٹی کا جہیز جمع نہ کرنے کی وجہ سے خودکشی کرلی؟ نیا کیا ہے ہمارے پاس سوائے رونے دھونے کے کچھ بھی تو نہیں۔ ہم ماہر معاشیات نہیں نہ ہی کامرس پر گرفت رکھتے ہیں لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں تبدیلی ملک میں عام آدمی کی زندگی میں خوش حالی اور بہتری سے لائی جاسکتی ہے۔ جب اس کے گھرانے میں بھی خوشی اور بہتری کی کلیاں کھلے گی اور ان کی خوشبو سے چہرے مہکتے ہنستے نظر آئیں گے یہ ریلیف حکمران کب دیں گے؟ یہ حکمرانوں کو بھی پتا نہیں بس نعرے لگوائے جارہے ہیں۔ لڑائیاں نفرت انگیز تقاریر اس ملک کا مسقبل رہ گیا ہے۔ پہلے میں اب میں کیا فرق ہے کچھ بھی تو نہیں۔ ایک عام آدمی کو نوازشریف کے جیل میں ہونے سے کیا فرق پڑتاہے۔ زرداری کےنیب میں ہونے سے کیا فرق پڑے گا؟ اس کو اپنے بچوں کےلیے دو وقت کی روٹی چاہیے اس کےلیے روزگار کے مواقع ملنے چاہئیں۔ کیا وہ موقع حکومت اسے فراہم کررہی ہے یا نہیں؟ امن چاہیے، مساوات چاہیے، عدل چاہیے انصاف چاہیے، ٹریفک کا بہتر نظام چاہیے اور تحفظ کا احساس چاہیے۔ کہتے ہیں کہ کوئی پوچھے تو بتا دینا خان آیا تھا۔ خان آیا اس کے لوگ آئے۔ اس کی پارٹی آئی اگر کچھ نہیں آٰیا تو عام آدمی کے روز مرہ کے حالات میں بہتری نہیں آئی۔

Facebook Comments