July 6, 2019 at 10:01 pm

تحریر:سیدہ سفینہ ملک
میں سراہتی ہوں اُن خواتین کو جنہوں نے بغاوت کی اُن طاقتوں کے خلاف جنہوں نے خواتین کو محض اپنی خدمت گار سمجھا۔اُنہیں تعلیم سے دور رکھ کے ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ۔شائد اس ڈر سے کہ کہیں اُنہیں اپنے حقوق کے بارے میں جانکاری نہ مل جائے اور کہیں وہ مردوں کی برابری نہ کرے اُنکے ماتحتی سے کہی نکل نہ جائیں، مگر کہتے ہے نا جہاں سختی ہو وہاں انسان خود بخود باغی ہو جاتا ہے ایسا ہی کُچھ ہوا ہماری خواتین کے ساتھ۔
اپنے ارد گرد دیکھئے کتنی خواتین ایسی ہیں جو لڑ رہی ہیں معاشرے کے فرسودہ نظام کے خلاف ، کوئی اس نظام سے تنگ آکر خودکشی کو ترجیح دے رہی ہے تو کوئی اسے بدلنے کی کوشش کر رہی ہے ماضی میں بھی ایسا ہوا خواتین پابندیوں سے تنگ آکر باغی ہو گئیں گالیاں کھائے ،طعنے سنیں مصیبتیں جھیلی۔۔۔کچھ جان سے گئیں کُچھ کی جانیں لے لی گئی, مگر پھر بھی ایک عورت ہار نہیں مانی بغاوت کر گئی، اپنا مقام چھیننے کی کوشش کرنے لگی, اُن سے جہنوں نے محض اُنہیں اپنا غلام و لونڈی بنا نے کی کوشش کی اُنہیں مارا پیٹا گھر سے نکال دیا مگر وہ دوبارہ اٹھی ہار نہیں مانی آواز اٹھائی ہمارے لیے تاکہ کسی اور عورت کے ساتھ ایسا نہ ہو جو اُنکے ساتھ ہوا ،سچائی سامنے لائے ،اور آج بھی کہیں نہ کہیں یہ بغاوتین ہو رہی ہے کہیں نہ کہیں ظلم ہو رہا ہے، کوئی گھر سے بھاگتی ہے تو کوئی دنیا سے ، مگر آنے والوں کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے ۔ شاید اگر وہ باغی نہیں ہوتیں، تو آج ہم ایسی زندگی نہیں گزار رہے ہوتے جو اج ہم گزار رہے ہیں ۔کہی کسی کے محتاج ہوتے ،اور فرسودہ رسم رواج کے نام پر جو صرف خواتین پر حکومت کرنے کے لیے بنائی گئیں ہیں ، کہتے ہیں کہ خواتین ہماری ثقافت کو بدلنے کی کوشش کرتی ہیں ،آزادی چاہیے اُنہیں ، تو کیوں نہیں دے رہے ہیں اُنہیں آزادی؟ کس چیز کا ڈر ہے؟ کیا ہے آپ کے پاس جو آپ کو اتنا غرور ہے ؟ اس بات کا خوف تو نہیں ہے کہ کہیں وہ فرسودہ روایات نہ بدل دے ؟ ویسے وہ کونسی رسم ہے جسکی لوگ بات کر رہے ہیں کہاں ہے وہ ثقافت جو ہر نئی ايجا د کے بعد موڈيفای ہو جاتی ہے یقین نہیں آتا اپنے گھر سے دیکھنا شروع کیجئے ٹیلیویژن ،موبائل،کمپیوٹر، نئے طرز کے گھر سب کچھ بدل گیا ہے، اور وہ جو لوگ زمین پر بیٹھتے تھے جنکو کسی کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی آج وہ بڑے بڑے آفسز میں صوفوں پر بیٹھے ہیں اے سی روم میں ،تو کیا یہ بھی ہماری ثقافت کا حصّہ تھی یا ہیں ؟ کیا آج بھی آپ لوگ بائک، گاڑی اور جہاز کی جگہ گھوڑے پر سفر کرتے ہیں ؟کیا روشنی کے لیے بجلی کی جگہ دیئے استعمال کرتے ہیں؟ کیا اسپتال میں مریض کی دل يا دماغ یا کسی بھی چیز کا آپریشن کی جگہ کچھ اور طریقہ استعمال کرتے ہیں کیا موبائل فون کی جگہ خطوط لکھتے ہیں؟ کیا معلومات کے لیے کتابیں، ٹیلیویژن اور کمپیوٹر کی جگہ کوئی اور چیزیں مجود ہے جو ہماری ثقافت کا حصّہ ہو؟ گھر کی ڈیزائن سے لے کر ہماری لائف سٹائل ،اٹھنا بیٹھنا ، یہاں تک ٹوائلٹ بھی ہماری ثقافت کا حصہ نہیں ہے مگر پھر بھی ہم وہ سب چیزیں استعمال کر رہے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ ہماری ضرورت ہے؟ تو خواتین پر الزام کیوں؟ جب ثقافت کوئی ساکت چیز نہیں ہیں اور ہر ڈیویلپمنٹ کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں تو کیا خواتین کو نہیں بدلنا چاہیے؟اور جو لوگ اسی ثقافت کو بنیاد بنا کے خواتین کو اُنکے حقوق نہیں دے رہے ہیں جو کہ بدلتی رہتی ہے اپنی پسند کو سامنے رکھ کے اُنہیں گھر سے بھاگنے یا خودکشی کرنے پر مجبور کرتے ہیں اُنہیں پتہ ہونی چاہیے، بغاوت وہی سے اٹھتی ہے جہاں پابندیاں ہوتی ہے۔ کیونکہ جب انسان کے پاس کوئی آپشن نہیں رہتا وہ یا تو ذہنی مریض بن کر پوری زندگی سب کے لیے مصیبت بن جاتی ہے یا تو باغی بن کے اُن رسم رواج کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے اور جب انسان باغی بنتا ہے تب اُنکے اندر مغاشرے کا ڈر اور خوف ختم جاتا ہے اور تب وہ اپنے رد عمل کا اظہار کرتا ہے چاہے اُسکا نتیجہ جو بھی ہو اُسے ڈر نہیں ہوتا کہ اسکے ساتھ کیا ہو گا۔
کیا ہے کی ایک دوسرے سے برتری کا مقابلہ اور ڈومیننٹ ہونے کی کوشش کسی کو بھی کہی کا نہیں چھوڑتا۔گھر اور ماحول دونوں کو برباد کر دیتا ہے ۔
اور جہاں خواتین کے ساتھ اچھا سلوک ہوتا ہے اُنہیں انکا مقام دیا جاتا ہے اُنکی پسند کو اہمیت دی جاتی ہیں وہاں ایک عورت اپنی اور اپنی خاندان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ اسلیے اب یہ آپ پر ہے کسی کو اپنے بُر ے رویوں اور سختی سے باغی بنانا ہے یا اپنی سوچ کو بدل کر اسے جینے کا حق دینا ہے ؟

Facebook Comments