July 4, 2019 at 11:55 am

تحریر فخر کاکا خیل
لکیریں ہاتھوں پر ہوں تو قسمت اور زمین پر کھنچ جائیں تو سرحد۔ کبھی کبھی سرحد کی یہ لکیریں بھی کسی ملک کی قسمت بنا سکتی ہیں۔ جیسے کہ ایران پاکستان کی سرحد اور اسی سرحد سے جڑی ہیں دونوں ملکوں کی تقدیریں۔ اس کہانی کا آغاز بھی 14 اگست 1947 کو ہوا جب پاکستان نے جنم لیا۔ جب پاک ایران سرحد دو اسلامی ممالک کے بیچ کی سرحد بنی۔ ایران دنیا کا وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو ایک آزاد خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ ایران کے حکمران رضا شاہ پہلوی دنیا کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے پاکستان کا پہلا سرکارہ دورہ کیا۔ مارچ ء1950 میں اپنے دورے کے بعد دونوں ممالک نے یہ ادراک کر لیا تھا کہ دونوں کی بقا ایک دوسرے سےجڑی ہوئی ہے۔ مئی 1950 وزیر اعظم لیاقت علی خان اور رضا شاہ پہلوی کے مابین باقاعدہ دوستی کا معاہدہ طے پایا پھر وہ وقت بھی آیا کہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرےکو پسندیدہ ملکوں کے درجات دئیے۔ دونوں ملکوں کی بڑھتی رفاقتوں پر دنیا کی نظریں تھیں۔ روس کی نظریں افغانستان پر تھیں جس سے گزر کر وہ بحیرہ عرب پہنچنا چاہتا تھا۔اور جس کے لیے ایران اور پاکستان سے بھی گزرنا تھا دونوں ملکوں کو خطرے کا احساس ہوا تو ترکی کی مدد سے فریقی معاہدہ، پاک ترک ایران معاہدہ عمل میں لایا گیا۔ ادھر ہندوستان جب مصر کے جمال عبدالناصر کے ذریعے عرب دنیا میں پاکستان کے خلاف سفارتی قدم جما رہا تھا اور مشرقی پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہونے لگا۔ ایران اس کے رد عمل میں پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ایرانی فوج دنیا کی پانچویں بڑی فوج تھی۔
پھر آیا وہ وقت جب پاک ایران دوستی میں ایران کو پہلی مرتبہ ایک بڑے امتحان سے گزرنا پڑا۔ بھارت نے 1965 میں پاکستان سے جنگ چھیڑ لی ایران نے جنگ میں باقاعدہ کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔ زخمیوں کی طبی امداد کے لیے ایران نرسز میدان جنگ میں پاکستانی فوجیوں کی تیمارداری کرتی رہیں۔ صرف یہی نہیں ادویات اور پانچ ہزار ٹن پٹرول بھی پاکستان بھیج دیا۔ اس دوران امریکا پاکستان سے منہ موڑنے لگا اور حسب معمول ہماری دفاعی امداد روک لی۔ لیکن ایران نے پاکستان کو اس مشکل وقت سے نکالنے کے لیے ایک عجیب چال چلی۔ ایران نے جرمنی سے 90 سپر جٹ طیارے لیے اور ان طیاروں کو پاکستان بھجوا دیا۔ امریکا دیکھتا رہ گیا اور دو پڑوسی ممالک نے تمام تر پابندیوں اور دباؤ کے باوجود خطے میں اپنی بقا کی جنگ لڑی اور یہی وجی تھی کہ امریکا نے پاکستان کو قریب لانے کی کوشش کی۔
ابھی عشق کے امتحان اور بھی تھے۔ امریکا ایک جانب سے پاکستان کو قریب لا رہا تھا اور دوسری طرف مشرقی پاکستان پر خاموشی کیے ہوا تھا۔ روس ہنوستان مل کر پوری طرح مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے کوشاں تھے۔ وہاں ایران کو پاکستان کے حوالے سے فکر تھی۔ ایران نے کھل کر پاکستان کے حق میں آواز بلند کی۔ ایک پڑوسی کی حیثیت سے ایران نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو ہندوستانی جارحیت قرار دیا۔ پاکستان کی سلامتی کو ایران کی سلامتی سے جوڑا۔ ایران کا خیال تھا کہ اگر مشرقی پاکستان علیحدہ ہوتا ہے ایران میں کردستان کی تحریک جڑ پکڑے گی۔
ابھی پاکستان 1971 کے سانحہ سے سنبھلا نہیں تھا کہ ہندوستان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کی حمایت کرنی شروع کر دی۔ پاکستان اور ایران سمجھ چکے تھے کہ اب جس بات کا خطرہ تھا وہ پاک ایران سرحد پر دستک دینے لگا۔ 1973 میں بھٹو صاحب کو بلوچ علیحدگی پسند چیلنج کرنے لگے۔ سرحد پر اس بلوچ شورش سے نمٹنے کے لیے ایران ایک بار پھر کھل کر پاکستان کے ساتھ تھا۔ ایران نے تین سال تک صرف پاکستان کو 200 ملین ڈالرز دیے بلکہ حساس معلومات کے ساتھ ساتھ 30 کوبرا ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے اور یوں پاکستان سقوط ڈھاکا طرز کے ایک اور بڑے سانحہ سے محفوظ ہو گیا۔ ایران میں انقلاب آیا پورے خطے کی صورت حال بدلنے لگی۔ 1979 ایک عجیب سال تھا ایک طرف خانہ کعبہ پر کچھ سعودی شہریوں نے حملہ کیا۔ دوسری طرف ایران میں انقلاب آچکا تھا۔ تیسرا بڑا واقعہ روس جیسے سپر پاور نے پاک ایران پڑوس یعنی افغانستان میں فوجیں داخل کیں۔ انقلاب کے فورا بعد پاکستان کے سفارت کار آغا شاہی نے ایران جا کر دونوں ملکوں کو قریب رکھنے کی کوشش کی اور یہی وجہ تھی کہ صدر ضیاء نے برملا کہا کہ امام خمینی مسلم دنیا کے احیار کے محرک ہیں۔ افغانستان کی روس آمد کے بعد ایران اور پاکستان ایک صفحہ پر در پردہ امریکا کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیونکہ حدف ایران اور پاکستان ہی تھے۔ 80 کی دہائی بھی عراق نے ایران کے خلاف کاروائیوں کا آغازکیا۔ عراق کی طاقت زیادہ تھی لیکن ایران بھی جم کر لڑا البتہ اس دفعہ پاکستان کو دوستی کی قیمت چکانی تھی۔ پاکستان نے وہ اسٹنگرز جو امریکا نے افغان مجاہدین کے لیے دیے تھے وہ ایران کو سپلائی کرنا شروع کر دیے اور یوں 80 کی دہائی میں ہی جہاں روس کو شکست ہوئی وہاں عراق بھی مار کھا گیا۔
نوے کے عشرے میں جب افغانستان میں حالات بگڑنے لگے تو پاکستان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا سوائے افغانستان میں طالبان کے ذریعے استحکام کے۔ اور یہیں سے پاک ایران تعلقات میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ خصوصا جب افغانستان میں ایرانی سرحد پر طالبان نے 47 ایرانی سفارت کار اور عام ایرانی باشندوں کا قتل عام کیا معاملات بہت بگڑ گئے۔ لیکن 11 ستمبر کو خطے میں امریکی آمد کے بعد پاک ایران سرحد ایک بار پھر ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے لگی۔ افغانستان میں امریکی آمد کے بعد واحد سپر پاور ایران پاکستان اور چین پر نظریں جما کر بیٹھ چکا تھا۔ اس دوران بھی پاک ایران تعلقات اتار چڑھاؤ کے شکار رہے۔ کلبوشن کے معاملہ پر ایران کا کردار خاصہ متنازعہ رہا۔ (لیکن ایک بار پھر افغان طالبان کو ایران تک رسائی دے کر پاکستان نے نا صرف دوستی کا حق نبھایا بلکہ ماضی کے مخالف فریقین کو بھی ایک ہی میز پر بٹھا دیا)۔
گوادر،سی پیک،افغانستان میں داعش کی آمد اور ایران امریکا کھچاؤ اب دونوں ملکوں کو ایک بار پھر سے ایک دوسرے کے قریب لانے کا ایک سنہری موقع ہے۔ ایران اس وقت اپنی سرحد کے قریب پاکستانی علاقوں کو یومیہ 34 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ گیس پائپ لائن کا ایک بہت بڑا منصوبہ فی الوقت تاخیر کا شکار ہے۔ ان دو ممالک کے بیچ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو سکتا ہے؟؟ ایران اور پاکستان کے پاس ایک اور موقع ہے آگے بڑھنے کے لیے۔ آج پاکستان کے مشرق اور مغرب میں دشمن قوتیں پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لیے سر گرم عمل ہیں۔ ایران کو آئے دن امریکا کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں پھر یہ ایرانی عوام امریکی اقتصادی پابندیوں کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری کی غفریت سے نبردآزما ہے۔ یہاں پاکستانی عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ حکمران فیصلہ کرتے ہیں اور عوام ان فیصلوں کو بھگتی ہے۔ دونوں طرف کی حکومتوں کے مسائل اور عوام کا درد شاید دونوں ملکوں کو مزید قریب لائے۔ پاک ایران سرحد پر ہی اب نظریں ہیں۔ سرحد کے بند دروازے کھول کر دونوں ملکوں کی قسمت کے دروازے بھی کھولے جا سکتے ہیں۔
اسی سرحد سے اب جڑی ہیں دونوں ملکوں کی تقدیریں۔

Facebook Comments