چوہدری تنویر اور کراچی میں 8 بے نامی جائیدادیں آج ضبط ہوں گی

شیئر کریں:

مسلم لیگ ن کے سینیٹر چوہدری تنویر کی طرح بے نامی جائیدادوں کے خلاف کراچی میں بھی تیاریاں کی جاری ہیں۔ ایف بی آر کی بے نامی اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی مہلت ختم ہوتے ہی کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں ایسی جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی۔ ایف بی آر کے مطابق بے نامی جائیدادوں کے خلاف آج رات سے آپریشن شروع کیا جارہا ہے۔ ایف بی آر پہلے ہی ن لیگ کے سینٹر چوہدری تنویر کی 6 ہزار بے نامی اراضی کا پتہ لگا چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اراضی ملازمین کے نام پر رکھی گئی ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے ملازمین کو نوٹس بھی جاری کئے گئے۔ ملازمین میں محمد بشارت، راجہ عبدالشکور، شاہجہاں بیگم، محمد معروف، اظہر علی اور عبدلحفیظ شامل ہیں۔ مہلت ختم ہوتے ہی بے نامی اراضی حکومت پاکستان قبضے میں لے لے گی۔ ایف بی آر نے کراچی میں ‏بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ بے نامی جائیداد پر نوٹس گھر نمبر 169/10 فیڈرل بی ایریا اور کلفٹن بلاک 5 میں بنگلہ نمبر157ایف، کے ڈی اے اسکیم 5 کے پتے پر نوٹس جاری کیے گئے۔ کراچی میں آٹھ بے نامی جائیدادیں ضبط کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ضبط کی جانے والی جائیدادیں سول لائنز کراچی اور کلفٹن سمیت دیگر علاقوں میں ہیں۔


شیئر کریں: