June 28, 2019 at 3:00 pm

تحریر :فخر کاکا خیل
کبھی کبھی سینئرز سے ملاقات ہوتی ہے تو عجیب سا احساس ہوتا ہے ہے کہ ان لوگوں نے کتنی محنت کی ہوگی کیسے کیسے دن دیکھے ہوں گے اور آج بھی قلم کی مزدوری کر رہے ہیں۔ تاہم سینئر صحافی اور ساتھی ہارون الرشید سے جب ملاقات ہوتی ہے ایک عجیب سی شرارتی چمک انکی آنکھوں میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسے کوئی رپورٹر کسی دلچسپ کردار سے ملتا ہے اور اگر اپنے بارے میں ان کی رائے کااختصار سے ذکر کروں تو میں ایک بے چین غیر مستقل مزاج جونیئر رپورٹر ہوں۔ یہ اکیلے ان کی نہیں خود میرے خاندان کی میرے بارے میں بھی یہی رائے ہے۔ یہ رائے کیوں بنی میں نے خود سے سوالات اٹھانا شروع کیے تو ایسا لگا جیسے امجد اسلام امجد کی نظم کمرہ ۔امتحان میں بیٹھ گیا
بے نگاہ آنکھوں سے
دیکھتے ہیں پرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
ان بنے سے لفظوں پر
انگلیاں گھماتے ہیں
یا سوال نامے کو
دیکھتے ہی جاتے ہیں
ہر طرف کن آنکھیوں سے
بچ بچا کے تکتے ہیں
دوسرے کے پرچوں کو
رہنما سمجھتے ہیں
شاید اس طرح کوئی
راستہ ہی مل جائے
بے نشاں جوابوں کا
کچھ پتہ ہی مل جائے
مجھ کو دیکھتے ہیں تو
یوں جواب کا پی پر
حاشیے لگاتے ہیں
دائرے بناتے ہیں
جیسے ان کو پرچے کے
سب سوال آتے ہیں
اس طرح کے منظر میں
امتحان گاہوں میں
دیکھتا ہی رہتا تھا
نقل کرنے والوں کے
نت نئے طریقوں سے
آپ لطف لیتا تھا
دوستوں سے کہتا تھا
کس طرف سے جانے یہ
آج دل کے آنگن میں
ایک خیال آیا ہے
وقت کی عدالت میں
زندگی کی صورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں
اک سوال نامہ ہے
کس نے یہ بنایا ہے
کس لئے بنایا ہے
کچھ سمجھ میں آیا ہے
زندگی کے پرچے کے
سب سوال مشکل ہیں
سب سوال لازم ہیں
بے نگاہ آنکھوں سے
بے خیال ہاتھوں سے
انگلیاں گھماتا ہوں
حاشیے لگاتا ہوں
یا سوال نامے کو
دیکھتا ہی جاتا ہوں
دیکھتا ہی جاتا ہوں
کچھ یہی میں صحافت کے بارے میں سوچا کرتا ہوں۔ یہی سوال مجھے بے چین کرتے ہیں۔ باقی ساتھیوں کا بھی یہی حال ہوگا لیکن میرے ساتھ تو مسئلہ میرے برج حوت کا بھی ہے۔ مچھلی کا نشان اور وہ بھی ٹراؤٹ جس کا تکنیکی مسئلہ ہے کہ اگر وہ بلندی پر زور سے بہاؤ کے خلاف نہ چلے تو اس کے گلز یا پھیپھڑے رک جاتے ہیں۔
سو اگر ٹراوٹ بہاؤ کے ساتھ چلنے کی کوشش کرے تو چند سیکنڈ میں اس کی موت ہو جاتی ہے۔ بہاؤ کے خلاف تیرنے میں ہی اس کی زندگی ہے۔ یہی میرے ساتھ ہوا جب بھی بہاؤ کے ساتھ چلنے کا وقت آیا تو یا استعفیٰ لیا گیا اور یا ہم نے دیا۔ ہم صحافیوں کو جواب کے نہیں سوال کے پیسے ملتے ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے اس معاشرے میں نئے سوالوں کی کوکھ جیسے بانجھ سی ہو گئی ہے۔ نئے سوالوں کا جنم ہی نہیں ہو رہا۔ ایک ادارے میں جب مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا تفصیلات ہیں؟ مجھے لائیو ٹرانسمیشن میں مائیک پھینکنا پڑا میں کیا کرتا ہر خبر پر ایک ہی سوال کیا تفصیلات ہیں۔ یعنی کوئی نیا سوال ہی نہیں؟ میں سمجھتا ہوں ہمیں ہر مسئلہ کا حل مل جائے گا۔ اصل مسئلہ سوال کا ہے۔ کوئی ڈھنگ سے سوال ہی نہیں کرتا۔ میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا جب میری پہلی بائی لائن جونیئر پوسٹ میں چھپی شایدعزیز صدیقی مرحوم اس وقت فرنٹیئر پوسٹ کے ایڈیٹر تھے تو انہوں نے اپنے دستخط کے ساتھ سرٹیفکیٹ بھیجا پھر وہ دن بھی آئے جب مغربی میڈیا کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ لیکن دیکھا وہ ابھی ڈھاک کے تین پات ،بڑے بڑے جرائد میں رپورٹر بڑے فخر سے لکھتے ہیں پنٹاگون کے اعلیٰ حکام سے معلوم ہوا ہے یا سی آئی اے کے اعلی اہلکار کہتے ہیں۔ یعنی جن کی خبرلی جانی ہے ان سے خبر لی جاتی ہے۔ تو پھر نتیجہ یہ نکلا کہ صحافیوں نے اپنی قوم کو عراق میں باپ بیٹوں اور بھائیوں کی لاشیں دیں۔ جیسا کہ ہمارے ہاں دیکھیں جرم ہو تو ایڈیٹر ایف آئی آر کی کاپی مانگتے ہیں تو کیا اگر ایف آئی آر نہ ہو تو ظلم ظلم نہیں رہتا؟ ٹی وی دیکھو جو دیکھنے کا میڈیم ہے وہ سننے کا میڈیم بن گیا ہے۔ شام سات بجے ٹی وی اسکرین آف کرکے سنو تو اندازہ ہو جائے گا۔ کوہسار مارکیٹ میں شام گزار کر رات کو ہر اینکر خصوصی کا اضافہ کر کے وہی بحث ٹی وی پر کرتا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں عموماً ایک جلسہ کی کوریج پر چینل ایکسکلیوزیو کا واٹر مارک لگا کر ایک ساتھ دیکھاتے ہیں کبھی کبھی تو منیر نیازی کا شعر یاد آتا ہے۔
جو خبر پہنچی یہاں پر اصل صورت میں نہ تھی
تھی خبر اچھی مگر اہل خبر اچھے نہ تھے
انہیں اہل خبر پر میں حیران ہوتا ہوں جو پورے مہینے اسلام آباد سے باہر نہیں جاتے اور جب جاتے ہیں تو ملک سے ہی باہر ملتے ہیں۔ تو پھر خیبر تا کراچی ہر موضوع پر اتنی اتھارٹی کے ساتھ کیسے بولتے ہیں؟ ایسے میں بیس ہزار کا ورکر خراب مالی حالت کے نام پر نکال کر کروڑ کی اینکر ٹیم لائی جاتی ہے۔ سینئر صحافی اویس توحید کے بقول پہلے اسٹیٹ میڈیا تھا اب سیٹھ میڈیا ہے۔ انہی مالکان کو دیکھیں وہ ہمیں کہتے ہیں وزیراعظم کی خبر کو بیلنس کر دو۔ بھائی حکمرانی کے تخت پر ایک ہی وزیراعظم بیٹھا ہے۔ سوال اس سے نہ کرو۔ تنقید اس پر نہ کروں تو اور کس پر کروں؟ اگر ساتھ میں کوئی اور وزیراعظم بھی ہے تو بتا دیں ہم ان پر بھی تنقید کرکے بیلنس کر دیں گے۔
پاکستان میں ٹی وی جرنلزم نے اپنے آغاز میں ہی عروج دیکھا لیکن پہلے پیسہ لگایا جاتا تھا مقصد ہوتی تھی خبر۔ اب خبر لگائی جاتی ہے اور مقصد ہوتا ہے پیسہ۔ ریٹنگ کی دوڑ میں جب کرنٹ افئیرز کے پروگرام پر یہ کہا گیا کہ آج تو تھیٹر لگا لو۔ تو پھر تھیٹر والے آگئے کیونکہ تھیٹر تو وہی بہتر چلا سکتے ہیں ہم تو سمجھتے تھے کہ کوئی صحافی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ خبر چھوٹی یا بڑی ضرور ہوتی ہے۔ جو کبھی نصیب سے ملتی ہے اور کبھی نصیب بنا دیتی ہے۔ لیکن جب ٹینکر مافیا کی طرح کچھ اینکر مافیا نے ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کو کاروبار بنایا تو اپنے صحافی بھی بیچارے واٹس ایپ کی درس گاہ سے نکلنے لگے۔ اسی لیے تو برادر ندیم رضا اکثر کہتے ہیں اب بھائی گلا کس سے کریں جب رپورٹر ہی پوٹر بن گئے ہیں۔ اس ٹی وی کے باکس نے ماضی میں زلزلے میں نام کمایا ، سیلاب میں عوام کے ساتھ کھڑے رہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہادت دی اور فوجی آمریت سے نجات میں یہ باکس عوام کی آنکھوں کا تارہ بنا اور وہی ٹی وی کا کام تھا۔ ٹی وی صحافت کے بانی ایڈرورڈ مرو کے بقول اگر ٹی آپ کو راستہ نہیں دیکھا سکتا، آپ کو متاثر نہیں کر سکتا اور معاشرے میں بدلاؤ نہیں لا سکتا تو پھر یہ ٹی وی نہیں بلکہ ایک بکس کے اندر روشنی کے کچھ بلب اور کچھ تارے ہیں اور کچھ نہیں۔ بس یہی بکھری سوچیں اور ان گنت سوالات جس پر میں کہتا ہوں۔
زہ بہ نہ لیونے کیگم
یعنی میں پاگل نہیں بنوں تو کیا کروں۔
بس یہی سوال بےچین کرتے ہیں اور میری زندگی میں ٹھہراؤ نہیں لانے دیتے۔ لیکن جو کچھ کیا اور جو کر رہا ہوں اس پر یہی کہوں گا۔
(رگڑا تو کھایا لیکن مزا بہت آیا (رل تاں گئے آں پر چس بڑی آئی اے

Facebook Comments