June 13, 2019 at 12:57 pm

تحریر عمران اطہر
اب وہ پہلے کی طرح صحت مند نہیں رہا لیکن اعصاب ان کے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط دیکھائی دے رہے تھے۔ وہ جسمانی طور پر کمزور اور ڈھلتے وقت کے ساتھ عمر رسیدہ ضرور ہوچکا تھا لیکن جب وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے اور بھٹو کے نعرے بلند ہوئے تو وہ کسی ناول کے باغی کردار کی طرح اپنی جیت کی خوشی میں بہادری سے قدم بڑھاتے ہوئے گرفتاری کےلیے آرہا تھا۔ آج بھی اس کے چہرے پر وہ شرارتی اور بادشاہ گر والی ہنسی کے پھول ویسے ہی کھلے نظر آئے جو پندرہ سال پہلے گرفتاری کے وقت کھلے تھے۔ پہلے بھی اسے ننھی آصفہ نے گلے لگا کرزندانوں کے حوالے کیا تھا۔ اب بھی اسی آصفہ نے باپ کو چوم کر گلے لگا کر الودع کیا۔ ہم نے سن رکھا ہے کہ زرداری یاروں کے یار ہیں۔ یعنی دوستوں کے دوست ہیں۔ وفادار مخلص اور نا فراموش کرنے والے دوست انہیں پھر گرفتار کرکے لے جایا گیا۔ یہ گرفتاری آصف علی زرداری کی فتح کے جشن کی مانند نظر آئی اور جس دلیری سے انہوں نے خود کو نیب کے حوالے کیا شاید بھٹو کے داماد ہونے کا انہوں نے ایک پرسنٹ حق اداکردیا ہو یا پھر وہ بے نظیر بھٹو شہید کے خاوند ہونے کی وجہ سے ایک پل کے لیے بھی لڑکھڑئے نہیں اور نہ ہی رکے۔ ان کی آنکھوں میں اعتماد کی شمعیں روشن رہیں۔ میاں محمد نواز شریف جیل جاتے ہی بیماری کے راگ الا پتے نظر آئے آصف زرداری سے جب پوچھا گیا آپ کیسے ہیں تو جواب دیا فٹ ہوں۔
مجھے ڈراموں اور ادب سے انسیت رہی ہے۔ جملوں، الفاظ، انداز اور لہجہ کردار کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ کمرہ عدالت میں پہنچنے کے بعد مجھے آصف علی زرداری کسی ناول کے باغی کردار میں دیکھائی دیے جس نے سب کچھ کھو کر بھی سب کچھ پالیا ہو۔ آصف علی زرداری کی احتساب عدالت میں پیشی پر انوکھے انداز نے صحافیوں کو بے حد متاثر کیا۔ آصف علی زرداری کمرہ عدالت میں سگریٹ کے کش لگاتے رہے اور وکلا آصف علی زرداری کے ساتھ سیلفیاں لیتے رہے۔ یہ مناظر جشن خوشی اور مِلن کے موقع پر ہوتے ہیں۔ لیکن سابق صدر کس دور سے گز رہے ہیں یہ وہی جانتے ہوں گے۔ اپنے آپ کو فٹ قرار دینے والے اس شخص کو بلڈ پریشر شوگر اور دیگر بیماریوں نے جکڑ رکھا ہے لیکن انہوں نے دشمن کی طرح بیماری کو بھی کبھی سنجیدہ نہیں لیا۔ نہ دماغ پر سوار کیا۔ آپ کمرہ عدالت میں سگریٹ پی رہے ہیں، یہ ممنوع ہے۔ صحافی نے سوال کیا جس پر سابق صدر زرداری نے جواب دیا کہ عدالت جج کے آنے کے بعد ہوتی ہے۔ ابھی صرف کمرہ ہے۔ سابق صدر زرداری نے اپنے حکومتی دور کو قائداعظم کے دور سے بہتر قرار دیا اور کہا کہ ہمارے دور حکومت میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ قائداعظم کے دور حکومت میں بھی اچکزئی کے والد صاحب پابند سلاسل اور سیاسی قیدی تھے۔ آصف علی زرداری کی کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو میں صحافی نے سوال کیا جس طرح نواز شریف کو پارلیمنٹ سے آؤٹ کردیا گیا کیا آپ پر بھی وہی فارمولا اپلائی کیا جارہا ہے؟ سابق صدر نے گویا ہوئے کہ کیا فرق پڑے گا میں نہیں ہوں گا تو بلاول ہو گا۔ پر اعتماد اور بے اختیار جواب بلاول نہیں ہو گا تو آصفہ ہوگی۔
لیڈر وہی ہے جو قربان ہونا جانے جو عوام کے بیچ میں بسے موت کا سفر خوف رقص اسے لڑ کھڑا نے پر مجبور نہ کرے۔ کیا شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل نہیں تھا؟ یا کچھ اور اب تو تمام رازوں سے بھی پردہ اٹھ چکا ہے۔ کچھ ہی لمحوں میں حمزہ شہباز بھی گرفتار ہو جاتا ہے پھر بجٹ کی تقریر لیٹ پر لیٹ ہوئی جاتی ہے۔ چند ہی لمحوں میں بانی ایم کیو ایم کی خبر تمام خبروں کو پیچھے چھوڑ جاتی ہے پھر جس کا نام لینا گناہ تھا کے فلسفے اور میڈیا کے لوگ بے دریغ تبصرے کرتے ہیں۔ تمام چینلزکی ہیڈ لائن الطاف حسین کے نام سےشروع اور ختم ہوتی ہے۔ ایم کیو ایم کے بانی نے رات پولیس اسٹیشن میں گزاری۔ لیکن ایک ہی دن بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ بانی ایم کیو ایم پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا الزام تھا۔ 22 اگست 2016 سے اب تک 7 مرتبہ اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں۔ لندن پولیس نے ان کے گھر سے تقاریر اور آڈیو ڈیٹا بھی قبضے میں لیا۔
‎ اسکرپٹ رائٹر اور ڈرامے کے ڈائریکٹر کے درمیان یہاں ہم آہنگی نظر نہیں آرہی ہے البتہ ڈرامے کے کرداروں کی خوب کردار کشی کی جارہی ہے۔ پی ٹی آئی وہ جماعت ہے جو ملک کو سبزباغ دیکھا کر تباہ کر رہی ہے اور مزید تباہ کرتی جائے گی۔ صوبہ سندھ سے اگر پی پی پی کا خاتمہ کیا جائے جو ضیاء جیسا آمر نہیں کرسکا تو سندھ میں صرف قوم پرستی اور سرکشی کے جذبات کو ہوا ملتی نظر آرہی ہے۔ بلوچستان مکمل قوم پرست جماعتوں کے حصار میں ہے۔ پیپلز پارٹی کے سوا کوئی ایسی جماعت نہیں جس کی جڑیں پورے ملک میں ہوں۔ کسی جماعت کی جڑیں بلوچستان میں نظر نہیں آتیں۔ باقی حقوق اور وسائل کی جنگ کا حق ان سے کوئی چھین نہیں سکتا جن کے لیے وہ دہائیوں سے قربان ہوتے جارہے ہیں۔ حالیہ پشتون افراد کی ناراضی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
کراچی کے اردو بولنے والے دوست بھی غداری کے لقب پر مجھے کبھی خوش نظر نہیں آئے۔ آخر میں میرا دیس مہمان پنجاب حب الوطنی کی دستار میں ضرور نظر آتا ۔ ڈرامے کے اسکرپٹ رائٹر نے کرداروں سے جڑے لیڈروں کی قربانیاں اور جلاوطنی کے اسباب کے بعد سب کا برطانیہ میں مقیم ہونا، باہم روابط رکھنا اور خود کو مظلوم سمجھنا، اپنا ایک نظریہ سوچ اور فلسفہ رکھنا۔ مستقبل قریب میں کسی اور تحریک کی پیدائش کے ممکنہ خطرات کی قیاس آرائیاں اور بد گمانیوں پر کوئی تحریر سپرد قلم نہیں کی گئی۔ جس سے ڈرامے کے کرداروں، پلاٹ اور کہانی میں کوئی ربط نظر نہیں آرہا۔ یہ بھی حال ہی میں پی ٹی وی پر نشر ہونے والے ناکام ڈراموں میں شمار ہوتا نظر آرہا ہے۔ مستقبل قریب میں مالی بحران سے بڑھ کر کچھ اور نقصانات ہونے کا خدشہ بڑھتا دیکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments