غریبوں کے لیے اپنے گھر کی امید بھی دم توڑ گئی

شیئر کریں:

حکومت کو آئی ایم ایف سے قرض کی رقم کب ملے گی یہ تو معلوم نہیں، لیکن حکومت نے عوام پر مہنگائی کی نئی تلوار چلا دی ہے۔ شرح سود مزید بڑھانے سے وزیر اعظم کا 50 لاکھ گھروں کا منصوبہ بھی شروع ہونے سے پہلے ہی عوام کی پہنچ سے دور ہونے لگا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ایک بار پھر شرح سود بڑھا کر 12.25 فیصد کردی ہے۔ صنعتوں اور عوام کو اب بینکوں سے مہنگے قرضے ملیں گے۔ اس صورت حال سے صنعتی سیکٹر تو بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے بینچ مارک ہاوسنگ منصوبے میں گھر بنانے والوں کے امیدیں پوری ہونا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی بنیاد ہی بینکوں کے قرضوں پر ہے۔ اس لیے شرح سود میں مسلسل اضافے سے زیادہ متاثر ہاوسنگ پراجکٹ ہو گا۔ عوام کے لیے مہنگے قرض کی واپسی کافی مشکل ہو گی۔ بینکوں سے مہنگا قرض ملنے کا باعث کاروباری لاگت مزید بڑھ جائے گئی جس سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ عوام کو مہنگائی کا تحفہ بھی ملے گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں اب تک بنیادی شرح سود میں 475 بیسز پوائنٹ کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔


شیئر کریں: