April 19, 2019 at 9:30 am

شمالی وزیرستان کی تاریخ میں پہلی بار مقامی خواتین کی پریس کلب میرانشاہ کے باہر احتجاج، انٹر میڈیٹ کا امتحان دینے والی درجنوں طالبات اور ان کے والدین کا گرلز ڈگری کالج میرانشاہ کے امتحانی عملے اور پرنسپل کے غیر انسانی روئے کے خلاف احتجاج، متعدد طالبات پرچے چھوڑ کر امتحانی ہال سے نکل گئیں ۔
شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں خدا خدا کرکے بحال ہونے والے گرلز ڈگری کالج واقع کینٹ ایریا میں بنوں بورڈ کے زیر اہتمام انٹر کا امتحان جاری ہے جس میں جمعرات کو صبح پرچہ شروع ہو نے سے پہلے درجنوں طالبات اور ان کی مائیں پریس کلب کے سامنے برقعوں میں ملبوس احتجاج کیلئے ائیں اور مظاہرہ کیا جس میں طالبات نے الزام لگایا کہ کالج کی پرنسپل زبردستی ہر سٹوڈنٹ سے پانچ ہزار روپے بھتہ مانگ رہی ہے جبکہ امتحان میں کسی اور کو بٹھانے کی دس ہزار مانگ رہی ہے ۔ طالبات نے الزام لگایا کہ ہال کی خاتون سپرنٹنڈنٹ لڑکیوں سے بدتمیزی سے پیش ااتی ہے اور گالی گلوچ تک کھلے عام دیتی رہتی ہے جس سے کئی ایک لڑکیوں نے امتحان دینے کے بجائے دبے پاؤں نکلنے میں ہی عافیت سمجھی اور پرچے چھوڑ کر نکل گئیں ۔ ایک طالبہ نے نام کو خفیہ رکھنے کی اپیل پر بتایا کہ کالج کا کلرک دھڑلے سے امتحانی ہال میں گھومتا پھرتا ہے جس سے ہم پرچے حل کرنے کے بجائے پردے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ طالبات نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ان حالات میں کوئی کیا خاک امتحان دے سکے گا جبکہ ہم نے بڑی مشکلوں سے اپنی پڑھائی جاری رکھی ہو ئی ہے ۔ والدین ، طالبات اور علاقے کے مشران نے ڈی سی میرانشاہ ، کنٹرولر اور چئیر مین بنوں بورڈ سے صورتحال پر ہمدردانہ غور کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اچھے ریوٹیشن والے عملے کو متعین کرکے موجودہ عملے کو فوری برخاست کیا جائے ورنہ ہم سارے امیدوار اجتماعی طور پر امتحان سے بائیکاٹ کرینگے ۔

Facebook Comments