April 15, 2019 at 12:06 pm

تحریر: عمران اطہر
حق دو حق دو جینے کا حق دو کی آوازیں ، عمررسیدہ بوڑھی خواتین ہاتھوں میں اپنے شہید بیٹوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں یہ مائیں کس سے انصاف مانگ رہی ہیں ، کس سے بہتری کی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں احتجاج جو رکنے کا اب نام ہی نہیں لے رہا،، بارش کے باوجود بھی یہ گھروں سے نکلی خواتین واپس لوٹنے کو تیار نہیں ۔یہ کیا چاہتی ہےکہ قاتل گرفتار کیے جائیں،، یہاں وہ سوچ جو صدیوں سے نفرت اور حقارت پر مبنی ہے اس کا خاتمہ کیا جائے،، اس خیال کو ذہن کے دریچوں سے نکال کر باہر پھینک دینا چاہئے جس میں تم غلط اور میں صحیح کے تصورات جنم لیتے ہیں۔ لیکن اس بات کا تعین کون کرے گا؟ ، اس عمل کی بنیاد کون رکھے گا؟ ، اس پودے کی آبیاری کون کرے گا؟ حکومت وقت، سیاستدان، عسکری قوتیں یا ہم سب یہ ایک سوال ہےجو دہائیوں سے سفر کررہاہے،،، اس سفر میں بے رحم وقت نے کئی معصوم بے گناہ شہریوں کواور خاندانوں کے کئی واحد کفیلوں کو ابدی نیند سلادیا ہے۔ یہ حق اور سچ کا اختیار انسان کےپاس کب آیا؟ ، کب انسان کو یہ فیصلہ کرنےکا حق دیاگیا کہ وہ جوبھی کررہاہے وہ ٹھیک ہے باقی دوسرے جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ غلط ہے؟، اس غلط اور صحیح کی جنگ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا،، ہم ٹکڑوں میں نسل درنسل تقسیم ہوتے جارہے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں عدل انصاف ، حق سچ ، ایمانداری اور اچھائی عملی طور پر نظر نہیں آتی،، اگر نظر آرہی ہیں تو ہم ٹھیک طرح سے اسے دیکھ کیوں نہیں پا رہے ہیں؟ سمجھ کیوں نہیں رہے؟ سوچ اور عقل کو علم کی بنیاد کہا جاتاہے پھر یہاں سوچ اور عقل کا عمل دخل کیسے ختم ہورہاہے کیا کوئی قوت اس کےپچھے کارفرماں ہے اگر کوئی قوت ہے تو اس کی نشاندہی اب تک کیوں نہیں کی گئی؟ اس کے خاتمے کے لیے ہم سب متحد کیوں نہیں ہوئے؟ اچھے کام کے لیے تو ہم سب کوہی کھڑے ہونا ہے؟ پھر وہ کھڑے ہونے اور آگے بڑھنے کا عمل اتنا تعطل کا شکارکیوں ہوا؟ ان باتوں پر ہم میں سے کسی نے سوچا ہے؟ بلکل بھی نہیں؟ ہم سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھ کربھی اندھے ہونے کی اداکاری کررہےہیں،، ایسے کردار ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کہا رہے ہیں ،، جس پر آنے والی نسلیں ہمارے گریبان پکڑیں گی،، ہم سے سوال پوچھیں گی آپ کوتو سب پتاتھا پھر آپ نے اس کے لیے آواز کیوں بلند نہیں کی؟ کیوں اسے روکا نہیں؟ ۔ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی آنے والے نسلوں کےلیے کیا چھوڑ کر جارہے ہیں،، جھوٹ بے ایمانی حسد لالچ ، منافقت اور اب تو کوئی رشتہ باقی نہیں رہا،، کسی کے نظریئے اور اعتقاد پرانگلیاں اٹھانا ہمارا خاصہ بن چکاہے۔ کب تک اس دھرتی کو بے گناہ معصوم شہریوں کے خون سے رنگا جاتا رہے گا،، کب تک مائیں اپنے لخت جگر پر سینہ کوبی کرتی رہیں گی؟ بہنیں اپنے بھائیوں کے قتل عام کے خلاف سڑکوں پر ماتم کرتی رہیں گی؟ ہمارا معاشرتی اقدار یہ رہ گیا ہے؟ کیا ہماری تہذیب اب یہی رہ گئی ہے؟ بلوچستان کی سرزمین کو روایتوں کی امین کہا جاتا ہے جہاں باہر سے آنے والوں کو گھروں میں نہیں دلوں میں جگہ دی جاتی تھی؟ اب اس دھرتی پر رہنے والی مائیں سڑکوں پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں،،، صرف ایک پل کےلیے ہم سے کوئی سوچ لے کہ یہ ہماری مائیں بہنوں کی طرح نہیں؟ اس سوچ کے ساتھ ہی دوسروں کے دکھ کرب اور اذیت کا اندازہ ہوگا،، قاتل پکڑے جائیں گے یا سزاپائیں گے کہ نہیں؟ یہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا،، مسقبل میں ایسے واقعات پھر رونما ہوں گے یا نہیں؟ اس پر بات ہونی چاہیے ،،، اس کی زمہ داری بھی کسی کو لینی ہوگی ،،، کوئی تو یقین دہانی کرائی گاِ،،،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دلخراش تصاویر دیکھ کر دل خون کےآنسو روتاہے عمر رسیدہ والدین کیسے اپنے بچوں کی میت سے لپٹ کر بین کر رہے ہیں۔۔ قیامت کا منظر ہے،،، آنسو آہیں سسکیاں کس نے ان کا مقدر بنایاہے؟ کون لوگ ہیں جنہیں یہ سب کر کے قلبی سکون ملتا ہے؟ کون ہیں وہ لوگ جو ان لوگوں کو حالت سوگ میں رکھنا چاہتے ہیں؟ یہ ہیں وہ سوالات جن کے لوگوں کو جواب چاہئیں،،، ظالم سے اظہار برات اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا،،، حق اور سچ کا ساتھ دینا ہوگا،،، کب تک نظریں چراتے رہیں گے؟ جب تک ہزارہ برادری کے غم میں شریک نہیں ہوں گےاور ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے دشمن ہمیں اسی طرح تقسیم کرتا رہے گا۔

Facebook Comments