April 14, 2019 at 11:33 am

افغانستان میں طالبان نے دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات سے چند روز پہلے 15 صوبوں میں حملے کئے ہیں۔ شمالی شہر قندوز میں سیکیورٹی فورسز پر نیا حملہ کیا ہے جس میں ستر سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ زرالع کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان نے گذشتہ چند ہفتوں سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف موسم بہار کے حملے شروع کررکھے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان حملوں کے بعد امریکا اور طالبان کے درمیان کوئی امن سمجھوتا فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے طالبان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی تحریک امن عمل اور بحران کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہے۔ انھوں نے افغان اور بین الاقوامی فورسز کو اپنی جنگی کارروائیوں کا مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے ہم فوجی کارروائیوں پر خاموش نہیں رہ سکتے ۔ کابل میں سیکیورٹی داروں کا کہنا ہے طالبان نے ہفتے کو پندرہ صوبوں میں بیک وقت حملے کیے ہیں لیکن یہ محدود نوعیت کیے تھے۔ ان میں زیادہ تر کو پسپا کردیا گیا ہے۔افغان سکیورٹی فورسز ملک بھر میں ہائی الرٹ ہے اور حملہ آوروں کا سامنا کرنے کے تیار ہے۔ افغان امور کے ماہرین کہتے ہیں طالبان نے یہ حملے اپنی موجودگی ظاہر کرنےکے لیے کیے ہیں۔ ان حملوں سے وہ امن مذاکرات میں بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ قندوز کو اہم شہر سمجھا جاتا ہے۔ طالبان نے 2015ء میں بھی مختصر وقت کے لیے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا ۔انھوں نے ہفتے کو علی الصباح مختلف اطراف سے اس شہر پر حملہ کیا۔ صوبائی گورنر کے ترجمان انعام الدین رحیمی نے کہا ہے کہ لڑائی میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق شہر کے مرکزی اسپتال میں ستر سے زیادہ لاشوں اور زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ طالبان نے شمالی صوبوں بغلان ، تخار ، بدخشاں ، فاریاب ، سرِ پُل اور بلخ میں بھی حملے کیے ہیں لیکن ان صوبوں میں افغان سکیورٹی فورسز کی کوئی زیادہ ہلاکتوں کی اطلاع نہیں ہے۔ مغربی صوبے غور میں طالبان کے ایک حملے میں افغان سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔اس صوبے میں طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان ایک گھنٹے تک جھڑپ جاری رہی۔ جنوبی صوبے ہلمند میں کےتین اضلا ع نادِ علی ، گریشک اور سنگین میں بھی طالبان نے حملے کیے ہیں۔ صوبائی گورنر کے ترجمان عمر ژواک نے کہا ہے کہ افغان فورسز نے ان حملوں کو پسپا کر دیا ہے اور جھڑپوں میں چار فوجی اور پندرہ طالبان جنگجو مارے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موسمی حدّت میں اضافے کے ساتھ لڑائی میں بھی شدت آئے گی۔

Facebook Comments