April 14, 2019 at 9:39 am

تحریر عبداللہ چیمہ (لندن)

منی لانڈرنگ صرف پاکستان ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ یورپ سمیت دنیا کے کئی ملک منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی زد میں آ چکے ہیں۔ دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کی وارداتوں نے کئی بینکوں کا دیوالیہ کروا دیا ہے ۔ پاکستان کا کل قرضہ 98 ارب ڈالر کا ہے لیکن صرف ایک جرمن بینک میں 220 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کا اسکینڈل سامنے آیا ۔ جرمن ڈانسکے بینک کو منی لانڈرنگ کے اسکینڈل میں ملوث پائے جانے پر سخت مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ روز سوئیڈن کے بینک کی چیف کو 150 ارب یورو کی منی لانڈرنگ کے اسکینڈل کے انکشاف کے بعد ملازمت سے نکال دیا گیا۔ برطانیہ کا بڑا بینک بھی 200 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کے اسکینڈل کا شکار رہا ہے ۔ ایک مشہور امریکی بینک کے ذریعے 300 ارب ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ کی گئی اور یہ سارا پیسہ منشیات مافیا کے بڑے گینگ کے پیسے کو محفوظ کرنے کے لئے کیا گیا ۔ اس کے علاوہ برطانیہ ،امریکی اور آسٹریلین بینکنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو چکی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کو صرف پاکستان ہی نظر آیا ہے۔ عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف سمیت تمام اداروں کو شائد بڑے بڑے ممالک کی منی لانڈرنگ دیکھائی نہیں دے رہی۔ شائد انہوں نے بڑی بڑی منی لانڈرنگ دانستہ طور پر نظر انداز کی ہوگی اور صرف پاکستان ہی انہیں گرے لسٹ میں ڈالنے کو ملا، دیگر سارے ممالک اس در گزر کی سہولت سے انجوائے کر رہے ہیں۔

Facebook Comments