April 14, 2019 at 9:18 am

تحریر اجمل شبیر

مشال خان کی دوسری برسی بھی گزر گئی ۔مشال خان مردان کی خان عبدالولی خان یونیورسٹی کا زہین طالبعلم تھا۔مشال خان کو 13 اپریل 2017 کے دن ایک ہجوم نے توہین مذہب کا غلط الزام کربےدردی سے قتل کرڈالا تھا۔مشال خان کے قتل کے بعد باشعور سوچ و فکر کی طرف سے بہت آوازیں سنائی دیں۔ 13اپریل کے دن مشال ڈے بھی منایا گیا۔مختلف تنظیموں نے پاکستان کے بہت سے شہروں میں جلوس نکالے۔مشال خان نے تعلیمی نظام میں موجود کرپشن اور طبقاتی نظام تعلیم کے خلاف آواز اٹھائی۔اسی وجہ سے سازش کرکے اسے قتل کرایا گیا ۔۔مشال ڈے کے موقع پر جلوس اور ریلیوں میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے باشعور افراد اور اداروں کی زمہ داری ہے کہ وہ مشال خان کے مشن کو جاری رکھیں ۔کچھ افراد کا کہنا تھا کہ کسی زہین طالبعلم پر بلاسفیمی کا الزام لگا کر اسے خوفناک انداز میں قتل کردینا بہت بڑا ظلم ہے جسے اب ہر صورت رکنا چاہیئے۔
مشال خان کے والد اقبال لالا ایک بہادر انسان ہیں ۔۔ایک ایسی متاثر کن شخصیت ہیں جنہوں نے دو سال تک بہت ساری مشکلات کے باوجود جنگ لڑی اور کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کی ۔ مشال ڈے پر ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اقبال لالا نے کہا کہ مشال کے ساتھ جو ہوا وہ ہوگیا ،اب وہ کسی اور طالبعلم کے ساتھ مشال جیسا ظلم نہیں ہونے دیں گے ۔۔ایسے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ مشال قتل ہوگیا ۔وہ اب وآپس نہیں آئے گا۔لیکن پاکستان کے ہر گھر میں ایک مشال موجود ہے ۔اس مشال کی زندگی کے تحفظ کے لئے وہ جدوجہد کرتے رہیں گے ۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام ،سول سوسائٹی ڈاکٹروں، ادیبوں ،شاعروں اور سب سے بڑھ کر میڈیا نے ان کا ساتھ دیا جس پر وہ میڈیا کے بہت شکرگزار ہیں ۔اقبال لالا کہتے ہیں کہ جہاں تک قانونی چارہ جوئی کی بات ہے وہ کسی حد تک مطمئن ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ مشال خان نے یونیورسٹی میں طالبعلوں کے حقوق کی بات کی تھی ،یونیورسٹی انتظامیہ کی کرپشن کو بے نقاب کیا تھا ۔اس پر توہین مذہب کا غلط الزام لگایا گیا اور پھر سازش کرکے اسے قتل کیا گیا ۔
ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ مشال خان کو یونیورسٹی انتظامیہ کی بدعنوانیاں بے نقاب کرنے پر قتل کیا گیا ۔کب تک مشال قتل ہوتے رہیں گے؟وہ کہتے ہیں بہت مشکلات برداشت کی ہیں ۔کسی سیاسی پارٹی اور ریاستی ادارے نے ساتھ نہیں دیا ۔۔لیکن جدوجہد جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی ۔ طاقتور قوتیں اب بھی ان کے ساتھ نہیں لیکنسوسائٹی اور طالبعلم حقیقت کو سمجھ چکے ہیں ۔باشعور ہورہے ہیں ،آواز اٹھارہے ہیں جو کہ ایک عظیم بات ہے ۔ شمال ڈے پر مشال مارچ خوش آئند تبدیلی ہے اس کا مطلب ہے کہ لوگ باشعور ہورہے ہیں ۔جب بہت زیادہ شعور آجائے گا تو اور مشال قتل نہیں ہوں گے اور انشااللہ وہ وقت قریب ہے جب پورا پاکستان باشعور ہوگا اور کسی مشال کو قتل نہیں ہونے دے گا ۔
مشال خان کے والد کا کہنا ہے کہ حکومت اور ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ طالبعلموں کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔انہیں تحفظ دیں ۔اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں نظام تعلیم کے نصاب کے بیانیئے کو بھی تبدیل کیا جائے اور نظام تعلیم کو جدید خطوط پر چلایا جائے ۔ کب تک ریاست اور حکومت مجرمانہ خاموشی کی کیفیت میں رہے گی ؟
‘‘میں لاپتہ ہوگیا ہوں
کئی ہفتے ہوگئے
پولیس کو رپورٹ لکھوائے
تب سے روز تھانے میں جاتا ہوں
حوالدار سے پوچھتا ہوں
میرا کچھ پتہ چلا؟
ہم درد پولیس افسر مایوسی سے سرہلاتا ہے
پھنسی پھنسی آوازوں میں کہتا ہے
ابھی تمہارا کچھ سراغ نہیں ملا
پھر وہ تسلّی دیتا ہے
کسی نہ کسی دن
تم مل ہی جائو گے
بے ہوش
کسی سڑک کے کنارے
یا بری طرح زخمی
کسی اسپتال میں
یا لاش کی صورت
کسی ندی میں
میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں
میں بازار چلا جاتا ہوں
اپنا استقبال کرنے کے لیے
گل فروش سے پھول خریدتا ہوں
اپنے زخموں کے لیے
کیمسٹ سے
مرہم پٹی کا سامان
تھوڑی روئی
اور درد کشا گولیاں
اپنی آخری رسومات کے لیے
مسجد کی دکان سے ایک کفن
اور اپنی یاد منانے کے لیے
کئی موم بتّیاں
کچھ لوگ کہتے ہیں
کسی کے مرنے پر
موم بتّی نہیں جلانی چاہیے
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارا لاپتہ ہوجائے
تو روشنی کہاں سے لائیں
گھر کا چراغ بجھ جائے
تو پھر کیا جلائیں؟

Facebook Comments