April 13, 2019 at 4:57 pm

حکومت نے ہفتے کے دوران اوسطا یومیہ 12 ارب 74 کروڑ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے۔ زیرگردش نوٹوں کی مالیت تاریخ میں پہلی بار 50 کھرب 33 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہےمہنگائی صرف روپے کی بے قدری سے ہی نہیں ہوتی،، نئے نوٹ چھاپنے سے بھی افراط زر بڑھتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران حکومت کی طرف سے 89 ارب 17 کروڑ 78 لاکھ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے گئے۔ جس سے اس دوران ملک میں زیر گردش نوٹوں کا حجم 89 ارب 16 کروڑ روپے کے اضافے سے 50 کھرب 33 ارب 44 کروڑ 75 لاکھ روپے کی رکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے کے باعث حکومت قرض لے کر یا نئے نوٹ چھاپ کر اخراجات پورے کر رہی ہے،، رواں مالی سال کے دوران حکومت نے گزشتہ سال سے 57 فیصد زیادہ نئے نوٹ جاری کیے۔اب تک وفاقی حکومت مرکزی بینک سے مجموعی طور پر 34 کھرب 41 ارب روپے قرض بھی لے چکی ہے۔ دوسری طرف مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران حکومت کی ٹیکس آمدنی ہدف سے 318 ارب روپے کم رہی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت آمدنی کے مطابق خرچ کرنے کی بجائے زیادہ قرض لینا اور نئے نوٹ چھاپنا شروع کر دیتی ہے،، جس کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

Facebook Comments