April 13, 2019 at 1:52 pm

تحریر عمران اطہر

‎کوہ مہردار کے دامن میں ہزارہ برادری کے بوڑھے اور جوان ایک قدیم کھیل سنگرک کھیلتے ہیں۔یہ کھیل صدیوں پراناہے مگر یہ آج بھی ہزارہ برادری کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔18 ویں صدی جب ہزارہ برادری افغانستان سے پاکستان ہجرت کرکے آئی تو وہ تب سے یہاں پہاڑ کے دامن میں یہ کھیل کھیل رہےہیں
‎سنگ یعنی پتھر اور رک کے معنی نشانہ لینے کے ہیں۔ یہ کھیل سیکڑوں سال پہلے افغانستان سے شروع ہوا ۔ افغانستان سے یہ کھیل ہزارہ برادری ہجرت کر کے اپنے ہمراہ پاکستان لائی۔ سنگرک پاکستان کے علاوہ افغانستان، ایران اور عراق میں بھی کھیلا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ کھیل ہزارہ برادری کے نوجوان اور بوڑھے سب ہی شوق سے کھیلتے ہیں۔
‎اس کھیل میں ایک کھلاڑی ہاتھ میں پتھر اٹھا کر سامنے لگے لکڑی کے ٹکڑے پر پتھر سے نشانہ لگاتا ہے۔ اگر پتھر نشانہ پر لگے توکھلاڑی کو دو پوائنٹس ملتے ہیں اور اگر پتھر لکڑی کےٹکڑے کے قریب گرے تو ایک پوائنٹ تصور ہو گا جس کا فیصلہ میچ کا ریفری کرتا ہے۔ اس کھیل میں دس کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیمیں ہوتی ہیں۔
‎کوئٹہ کے سنگلاغ پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹے سے میدان میں یہ کھییل کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کے لیے گیند نما گول پتھر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور صدیوں سے یہ کھیل اسی طرح سے کھیلا جارہا ہے۔

میں جامعہ بلوچستان میں شعبہ ء ابلاغیات کا طالب علم تھا جب آئی ایس پی آر کی خوبصورت شخصیت کے حامل میجر شفاعت حسین ایم اے کی کلاس میں ہمارے کلاس فیلو کی حیثیت سے کلاسز شروع ہونے کے دو ماہ کے بعد تشریف لائے۔ کلاس میں بلوچستان کے سلگتے ایشو پر پروفیسر زاور ہمارے گرما گرم مکالمے دلیل کتب کے حوالے سے بحث و مباحثہ ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ کلاس میں لیٹ پہنچنے کے باوجود پروفیسر صاحب انتظار کرتے تھے کہ کامریڈ کو آنے دو پھر اس ایشو پر بات کرتے ہیں۔ پاکستان بننے کی کہانی سے لیکرناراض بلوچ سب موضوع ہماری گفتگو کا محور ہوا کرتے تھے۔ حالات حاضرہ کے موضوع پر پریڈ کا سب ہی کو بے تابی سے انتظار ہوا کرتا تھا، چغتائی صاحب کہتے تھے کہ عمران کل وقت پر آنا ٹاپک اچھا ہے۔ دو گھنٹے کی کلاس میں ہی ہوگا مجھےآج بھی بہت اچھی طرح یاد ہے۔ ایک دن یونیورسٹی کے سبزہ زار پر بلوچستان کے ایشو پر میجر شفاعت حسین ہزارہ سے طویل گفتگو ہوئی تو میجر نے کہا یار آپ دلچسپ آدمی ہو تھوڑا وقت دیا کرو۔ بعد میں دوستی کے رشتے میں ایسے بندھے ہر وقت ساتھ ہوا کرتے تھے۔ یونیورسٹی کے بعد بھی ہم ہر وقت رابطے میں ہوا کرتے تھے۔ میجر شفاعت حسین ہزارہ بلوچستان میں بسنے والے لوگوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ ان کے دکھوں محرومیوں پر بات کرتے ہوئے لازمی کہا کرتے تھے کہ حکمرانوں کو چاہیے وہ ان کے حقوق دے۔ بحرحال سردیوں کی ایک رات بارہ بجے میرے پاس آئے وہی ہنسی مذاق اور زور سے ہنستے ہوئے عمران ملتے ہیں کل کہہ کرچلا گیا۔ میں پی ٹی وی کوئٹہ میں پروڈیوسر کے طور پر کام کر رہا تھا جیسے ہی آفس پہنچا سب نے بتایا کہ آپ کے دوست ہارٹ اٹیک کی وجہ سے صبح انتقال کرگئے۔ میں نے ایک دم بغیر سوچے سمجھے کہا یہ کیسے ہوسکتا۔ رات میرے ساتھ اور بلکل ٹھیک تھے۔ بس پھر وہی زندگی کی آخری رسومات مکمل ہوجاتی ہیں۔ مجھے اگر کبھی بہت یاد آتے تو میں ادریس ہزارہ کے ساتھ جاکر بہشت زینب قبرستان میں فاتح پڑھ آتا۔ میں جب بھی بہشت زینب قبرستان گیا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ قبرستان میں ہر قبر کے کتبے پر دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی کہانی نوحہ کناں ہے۔ دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کی قبرستان میں پینا فلیکس پر جابجا تصاویر آویزاں ہیں۔ انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا کہ وہ سب سے ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے کہ انسانی جان کی کیوں کوئی قیمت نہیں؟ اس معاشرےہم نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا پھر ہمیں کیوں بے گناہ مارا گیا ؟
اپنے پیاروں کےبچھڑنے کا غم کیا ہوتا کوئی بہشت زینب قبرستان آکر دیکھے۔
بچوں کو جس عمر میں کھلونوں کی ضد کرنی تھی انہیں قبر سے لپٹ کر باپ کو پکارتے دیکھا۔ ماں بہنوں اور بچوں کی سسکیوں میں ظلم و جبر اور بربریت کی داستانیں رقم ہیں۔ ہزارہ برادری پر تقریباً دو دہائیوں سے مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے ہیں۔ علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں شاید ہی کوئی گھر بچا ہوجو بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور مسلح مذہبی تنظیموں کا نشانہ نہ بناہو۔ اب تو علاقے کی یہ صورت حال ہے کہ ہر گھر میں بچے اور خواتین تو ہیں لیکن ان کی کفالت کے لیے کوئی مرد نگہبان نہیں۔ ہزارہ برادری کے کافی لوگ ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کی نظر ہو چکے تو حیثیت رکھنے والے لوگ ملک سے ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ ہجرت کا دکھ کیا ہوتے یہ صرف وہی جانتے ہیں جن پر گزرتی ہے۔
‎دکھ درد اور کرب ، رنگ ونسل و مذہب کی تفریق سے ہٹ کر سبھی کا خون ایک جیسا ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے حملوں نے کئی گھرانوں کے چراغ گل کردیئے ہیں۔ خوشی کے کسی بھی تہوار پر اپنوں کی کمی کو بڑی تکلیف کے ساتھ محسوس کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ خواب جو ان کے پیاروں کے مستقبل سے وابستہ تھے انہیں ہمیشہ آبدیدہ کر دیتے ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑے پیمانے پر پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ ہزارہ برادری کی ہر گلی میں دو سے تین میجرآپ کو لازمی ملیں گے۔ نوجوان بچے بچیاں کمال کے ٹیلنٹڈ علم دوست اسپورٹس آرٹ سے وابستگی رکھنے والے یہیں سے ملیں گے۔ جنرل موسی سے لے کر کراٹے، ہائی کنگ ،سولو کلائمنگ ،مصور اور بہتر ہنر مند آپ کو یہیں سے ملیں گے۔ اس قوم کی شائستگی تہذیب کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پورا کوئٹہ کی صفائی ستھرائی ایک طرف لیکن مری آباد کی صفائی کیا کہنا ہے۔
اس قوم کے ساتھ غیر انسانی رویہ کیوں ہے؟ کیوں انہیں مرضی سے جینا کا حق نہیں دیا جاتا؟ کیوں ریاست انہیں تحفظ فراہم نہیں کرپا رہی؟ ہزار گنجی کے کل کے خودکش حملے نے پھر ہر آنکھ اشکبار کردی۔ ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
‎ آنسوئوں اور خون کا کوئی رنگ نہیں ہوتا لیکن پیغام اور سوال ایک ہی ہے کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟

Facebook Comments