April 13, 2019 at 10:29 am

افغانستان میں تقریبا دو دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کئی ماہ سے جاری ہیں۔ مذاکرات اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن دوسری طرف طالبان قیادت پر افغانستان میں فضائی حملے بھی جاری ہیں۔ ایسی ہی ایک فضائی کارروائی گزشتہ ہفتے ہلمند میں کی گئی تھی جہاں فضائی حملے میں زخمی ہونے والے طالبان رہنماء زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اب چل بسے ہیں۔ ہلمند میں طالبان کے گورنر مولانا شراف الدین تقی پر گذشتہ ہفتے ضلع موسی قلعہ بازار میں فضائی حملہ کیا گیا تھا۔ موسی قلعہ بازار کے قریب طالبان کے اجلاس کو جنگی طیارے نے نشانہ بنایا تھا جس میں طالبان کے سرکردہ صوبائی رہنما حافظ راشد پانچ ساتھیوں سمیت مارے گئے تھے۔ اس سے پہلے بھی طالبان کے جنگی کمانڈر ملا منان کو امریکی فورسز نے فضائی حملے میں مارا تھا۔ یاد رہے ایک طرف طالبان کے ساتھ قطر ، یو اے ای اور پاکستان میں امن مذاکرات جاری ہیں اور دوسری جانب ان پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امن مذاکرات کے سلسلے میں طالبان پر سے سفری پابندیاں بھی ختم کی جاچکی ہیں وہ دنیا بھر میں کہیں بھی مذاکرات کے لیے جاسکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 9 ماہ کے دوران افغانستان میں قیام امن کے لیے جاری مذاکرات میں معاہدہ طے پاجانے کا امکان ہے۔

Facebook Comments