April 12, 2019 at 1:37 pm

کوئٹہ میں مختصر وقفہ کے بعد پھر دہشت گردی ہوئی۔ بلوچستان کے دارالحکومت میں بڑی تباہی کی گئی۔ دہشت گردوں نے صبح سویرے سبزی منڈی میں مزدوروں کو نشانہ بنایا۔ دھماکے سے موقع پر ہی کئی مزدوروں نے دم توڑ دیا۔ امدادی کارروائیاں بروقت نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتیں زیادہ ہوئیں۔ زیادہ تر زخمیوں اور لاشوں کو فروٹ کے ٹرکوں پر اسپتال پہنچایا گیا۔ صوبہ کے وزیر داخلہ نے بیس افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ 50زخمی بھی ہیں۔ کئی زخمیوں کی حالت نازک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز نے شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیاہے۔ دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں شہری اور تاجر خریداری میں مصروف تھے۔ شہید اور زخمیوں میں زیادہ تعداد ہزاروہ برادری کی ہے۔ ہزارہ برادری کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا حدف ہم ہی تھے۔ اسی جگہ پہلے بھی ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ہزارہ ٹاون سے بڑی تعداد میں لوگ صبح سویرے منڈی آتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ہزارہ برادری کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے مرکزی شاہرہ پر دھرنا دے دیا ہے۔ کوئٹہ میں دہشت گردی سے دو روز پہلے ہی امریکا نے پاکستان کیلئے ٹریول جاری کی تھی۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کو کہاتھا۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے بلوچستان میں دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ ذرائع نے بڑے شہروں میں مزید دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دہشت گردی کے پیش نظر ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

Facebook Comments