April 11, 2019 at 1:08 pm

تحریر عطا حسین

کسی بھی ملک اور ادارے میں قانون کے نفاذ اور پالیسی سازی میں اخلاقیات کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ قانون کے نفاذ اور پالیسی سازی کے بغیر نہ تو ملک درست سمت میں چلتا ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ اپنا جائز مقام حاصل کر پاتا ہے۔ قانون سازی اور اسے نفاذ کرنے والے شعبے میں کسی اور شعبے کی بہ نسبت زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ پولیس کا شعبہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں اخلاقیات کاخیال سب سے زیادہ رکھنا پڑتا ہے۔ عوام کو پولیس اہل کاروں اور افسران کی جانب سے اخلاقیات کی زیادہ توقع ہوتی ہے۔ سماجی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ پولیس افسران کی ملازمت ایک باؤل میں موجود مچھلی کے جیسی ہوتی ہے۔ اس باول پر دوست ، رشتہ دار، ہمسائیوں اور سب ہی کی نگاہ ہوتی ہے۔ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ قانون کا نفاذ اس کی صحت کے مطابق کر رہا ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام پولیس اہل کاروں اور افسران کی غلطیوں پر نا صرف نظر رکھتے ہیں بلکہ تنقید بھی کرتے ہیں۔ تنقید کی بنیادی وجہ عوام پولیس کے محکمہ سے فرض شناسی کی امید رکھتے ہیں کیونکہ پولیس والے عوام کے محافظ ہوتے ہیں۔ پولیس اہلکار عوام کا مان ہوتے ہیں۔ عوام پولیس کی موجودگی میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اس پر پورا نہیں اترتے تو دلبرداشتہ عوام کی تنقید بنتی ہے۔ عوام کی توقعات اور امیدوں پر پورا اترانا یا کم تر رہنے کی تمام تر ذمہ داری محکمہ پولیس کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ سربراہ جتنا دیانتدار اور عوام کی محبت رکھنے والا ہو گا پولیس کا محکمہ بھی اسی جانفشانی سے عوام کی خدمت کرے گا۔ محض پولیس کی وردی تبدیل کرنے سے کارکردگی بہتر نہیں بنائی جاسکتی۔
مثل مشہور ہے کہ ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔ ایسی مثالیں پولیس میں بھری پڑی ہیں۔ پاکستان ہو یا یورپ سب ہی جگہ کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے کہ پولیس کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھنے شروع ہو جاتی ہیں۔ آئے دن ہم دیکھتے اور سنتے ہیں کہ جعلی مقابلے میں شہری ہلاک کر دیے گئے۔ سگنل پر نہیں رکے تو گولی چلادی۔ لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ اکثر غلطی پر بھی شہری کو پریشان کیا جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے چوری اور اوپر سے سینہ زوری ۔ پولیس کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال کی شکایات بھی عام ہیں۔ ایسی خبروں سے عوام میں پولیس کا تشخص خراب ہوتا ہے۔
ایسا ہرگز نہیں کہ پولیس میں سارے ہی لوگ خراب ہیں۔ محکمہ پولیس میں زیادہ تعداد فرض شناس، محنتی اور اپنے کام کے ماہر افراد کی ہے۔ ایسے افسران عوام کے مسائل کے حل اور حقوق کے لیے اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ وہ شہرت کے بجائے خاموشی سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں ۔ ایک پولیس افسر کا غیراخلاقی عمل اس کی پوری سروس کے کیریئر پراثراندازہوتا ہے۔ افسران اور اہل کاروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا باوردی ہرعمل انفرادی نہیں ہوتا وہ محکمہ کا اچھا یا برا عمل بن جاتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو جرائم پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ خود پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حسین نظر آئے۔ لوگ اس پر رشک کریں۔ پولیس کا محکمہ ایک عوامی محکمہ ہے۔ پولیس کا عوام کے ساتھ چوبیس گھنٹے کا رابطہ رہتا ہے۔ ان کی شخصیت ، کپڑے اور جسامت سب ہی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ شکل و صورت اور بہترین ملبوسات کسی بھی اہل کار اور افسر کی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ بے ڈھول جسامت کے افسران اور اہلکار بھی عوام پر کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتے۔
اندھیر اجالا کے معروف کریکٹر جعفر حسین اور حوالدار کرامت سب ہی کو یاد ہوں گے۔
پنجاب پولیس کے بے ڈھول افسران اور اہل کاروں کو کئی وارننگ مل چکی ہیں۔
کمرے نما کمرے پھر بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ۔
ماہرین کہتے ہیں پولیس اہلکاروں کو اسمارٹ رہنے کے لیے اپنی غزا پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ مفت کھابوں کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔ جگہ جگہ کے کھانے صحت کے لیے بھی ٹھیک نہیں ۔ صاف ستھری غذا کے ذریعے خود کو صحت مند اور چست بنا سکتے ہیں۔ جسامت میں کمی اور تازگی سے پولیس کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔
اسی طرح اخلاقیات بھی سماجی اقدار سے جڑی ہوتی ہیں۔۔ سماجی اقدارمیں کمی بیشی تو نہیں کی جاسکتی۔ اخلاقیات تو عوام کی نظروں کے سامنے ہوتی ہے۔ اخلاقیات کے ساتھ ساتھ اقدار بھی ہوتی ہیں۔ ہماری اقدار زندگی کے ہر فیصلے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ یہی اقدارعملی اورغیر عملی زندگی میں ہمارامقام طے کرتی ہیں۔ ہماری اہمیت اور قدر کا تعین بھی یہی اقدار کرتی ہیں۔ معاشرے میں کچھ ذاتی اقدار بھی ہوتی ہیں۔ کچھ معاشرتی ذاتی اقدار ، کردار، اعمال اور افعال سے ظاہر ہوتی ہیں۔ ذاتی اقدار ثقافتی، مسلکی اورمذہبی اعتقادات کا نتیجہ ہمارے ذاتی کردار کی صورت میں سامنےآتا ہے۔ ذاتی اقدار ہر شخص کی علیحدہ اور مختلف ہوتی ہیں۔۔ انہی عوامل کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ پولیس اخلاقیات ایک جیسی نہیں ہوسکتیں۔۔ ہر شخص کی سوچ اور مذہبی عقائد علیحدہ ہو سکتے ہیں۔۔ یہی ہمارے کردار کی صورت میں سامنے آرہے ہوتے ہیں۔ گرچہ کچھ اقدار عالمی سطح پر ہر سماج میں یکساں ہوتی ہیں۔۔ یہ سماجی اقدار وہ خیالات ہوتے ہیں جو معاشرے کے سب سے پسندیدہ طبقے کی جانب سے انجام دی گئی ہوتی ہیں۔ ان اقدارمیں ملی جذبہ، سچائی کا جذبہ ، محنت، انکساری، ایک دوسرے کی مدد، انصاف اور بہادری شامل ہیں۔ عالمی سطح کی اقدارسے ہی رویوں اور اخلاق کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ عالمی معیار کی ان ہی اقدار کو ہمیں اپنانا ہوگا ۔ اس عمل سے نہ صرف پولیس کا محکمہ بہتر ہو سکے گا بلکہ ایک امن پسند اور محبت کرنے والا معاشرہ پروان چڑھ سکے گا۔

Facebook Comments