April 7, 2019 at 1:19 pm

تحریر : عمران اطہر
پاکستان جہاں قدرتی وسائل سے مالا مال ہے وہی پر یہ اپنے روایتی کھانوں کی وجہ سے بھی دنیا بھر مشہور ہے بلوچستان کے روایتی کھانے نہ صرف اپنی ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ اپنے منفرد ذائقے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے یہی وجہ ہے ملک بھر سے لوگ بلوچستان کے شفاف ساحل ، بہتے جھرنے اور بلند وبالا پہاڑ اور یہاں کے روایتی کھانوں سے محظوظ ہونے کے لیے آتے ہیں ۔
موسم کوئی بھی ہو بلوچستان بھر میں روایتی کھانے خصوصی طور پر تیار کئے جاتے ہیں ۔کھڈی کباب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پشتون افراد کی ایک مشہور روایتی ڈش ہے جسکو بنانے کی ترکیب کچھ اس طرح سے ہے ۔
اس میں بکرے کے گوشت کو بڑے بڑے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ایک لکڑی کے ساتھ باندہ کر خاص انداز میں زمین کے اندر ڈالا جاتاہے اور گڑے کو لوہے کی ایک چادر سے ڈھانپ کر اس کے اوپر کوئلے کے جلتے ہوئے ٹکڑوں سے دم لگایا جاتاہے ۔
اس ڈش کو تیارکرنے والے افراد کا کہناہے کہ کھڈی کباب کو دم پختہ کے نام سے بھی جانا جاتاہے کھڈی کباب میں بکرے کے اند ر بعض لوگ چاول بھی ڈال کر تیار کرتے ہیں جس کو لوگ بے حد شوق کے ساتھ کھاتے ہیں ۔
کوئی بلوچستان آئے اور بلوچ ثقافتی روایتی کھانوں میں اگر سجی کا ذائقہ نہ چکھے تو یہ سمجھ لیجئے کہ اس نے بلوچستان میں کچھ نہیں دیکھا ۔سجی کی تیاری میں بکری کی ران اور دستی کو دہکتے کوئلوں کی آگ سے اسے اپنے منفرد اندا زمیں تیار کیا جاتاہے بلوچستان اپنے لذٰیذ اور خوش ذائقہ کھانوں اور مہمان نوازی کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ان کھانوں کی پسنددیگی میں بھی اضافہ ہوتا جارہاہے ۔
صدیوں سے بلوچستان کے یہ روایتی کھانے آج بھی دسترخوانوں کاحصہ ہے ۔ جن کی ترکیب نسل در نسل چلی آرہی ہے آج بھی ان کی لذت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں کئی گناہ اضافہ ہورہاہے۔
خوشیوں کا کوئی بھی تہوار آتے ہی من پسند روایتی کھانوں کی تیاریوں میں اضافہ ہوجاتاہے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں سب سے ذیادہ پسند کیا جانے والا نکمین روسٹ مہمانوں کی خاطر توازہ کیلئے خصوصی ڈش تصور کی جاتی ہے ۔

تیکھے مصالحوں کے بغیر تیار کی جانے والی نمکین روسٹ میں صرف کالی مرچ اور نمک ہی استعمال کیا جاتاہے اس میں گھی استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ گوشت کی چربی سے ایسے تیار کیا جاتاہے اس میں تھوڑی پیاز ڈال دی جاتی ہے تاکہ یہ میٹھا بن جائے۔

بلوچستا ن میں سردیوں کے موسم میں ایک اور ڈش جسے لاندھی کہا جاتاہے بڑے شوق کے ساتھ کھائی جاتی ہے جس میں گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو نمک لگاکر دھوپ میں کئی ہفتوں تک سکھانے کے بعد تیا ر کی جاتی ہے لاندھی کو موسم سرما میں ضرورت کے مطابق آلو شوربے مختلف سبزیوں اور چاولوں میں استعمال کیا جاتاہے ۔

اس کو تیارکرنے والے افراد کا کہناہے کہ بکرے کو کاٹ کر اسکو نمک لگاکر تقریبا 40 سے 60دن تک دھوپ میں لٹکاد یا جاتاہے جب وہ گوشت خشک ہوجاتاہے تو اسے پکا کر کھایا جاتاہے یہ بے حد گرم غزہ ہے اور سردیوں کے لیے بے حد مفید ہے جسے لوگ بے حد شوق سے کھاتے ہیں اور یہاں کے روایتی کھانوں میں یہاں کے لوگوں کے ثقافتی رنگوں کے ساتھ سر د موسم کے اثرات بھی جھلکتے نظر آتے ہیں ۔
ہزارہ قبائل افغانستان سے 19 ویں صدی کے وسط میں ہجرت کرکے کوئٹہ میں آکر آباد ہوئے جنہوں نے پاکستان کی تعمیر وترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیاہے ہزارہ قبائل کے روایتی پکوان آش کو بے حد پسند کیا جاتاہے جو کہ نہ صرف کھانے میں لذٰیذ ہے بلکہ اس کی تیاری کا طریقہ کار بھی بےحد منفرد ہے.
آش ایک قبائلی پکوان ہے جسے ہزارہ قبائل خصوصی تہواروں پر مہمان نوازی کے لیے تیارکرتے ہیں.
آش نہ صرف اپنے ذائقے میں منفرف ہے بلکہ اس کی تیاری کا طریقہ کار بھی دلچسپ ہے قیمے کے سالن کے ساتھ اس میں کرد سفید چنے لوبیا اور آٹے کی سویاں شامل ہیں جنہیں پانچ سے 6 گھنٹے ہلکی آنچ پار رکھ کر تیار کیا جاتاہے
آش ڈش کی مقبولیت نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کے دیگرعلاقوں میں بھی بڑھتی جارہی ہے

Facebook Comments