March 22, 2019 at 10:40 am

رپورٹ
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 22 مارچ کوعالمی یوم آب منایا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کو ملک عزیز پاکستان کا واٹر حب کہا جاتا ہے یہاں سے رسنے والے گلئیشرز ملک کے 60 فیصد علاقے کو سیراب کرتے ہیں۔پانی کے عالمی دن کو منانے کا مقصد نہ صرف صاف پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے بلکہ اسے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دینا بھی ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں پہلے ہی مجموعی قومی آمدنی کا سب سے کم حصہ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سرفہرست ہے، جہاں پانی کا بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔گلگت بلتستان دنیا کے تین بڑے گلئیشرز سمیت پانچ ہزار گلئیشرز کی وجہ سے پانی کے زخائر سے مالا مال ہے مگر بڑھتی ہوئی ماحولیاتی الودگی اور منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ قدرت کا یہ انمول تحفہ ضائع ہورہا ہے۔ماہرین اب کا کہنا ہے کہ حکومت نہ صرف ان گلئیشرز کے بچاو کے لئے اقدامات کرے بلکہ اس سے رسنے والے پانی کو محفوظ بنانے کے لئے فوری طور پر ڈیمز بنائے تاکہ ملک کو خشک سالی کا سامنا,نہ کرنا پڑے

Facebook Comments