March 20, 2019 at 5:38 pm

تحریر،امبرین زمان خان

میرے ابو جمعرات کے دن ستائیس ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو اس دنیا سے چلے گئے تھے،میں تب سے روز یہ لائن لکھتی تھی “میں ایک ولی کی بیٹی ہوں”مجھ سے بلاگ مکمل نہیں لکھا جا رہا تھا ،سمجھ نہیں آتی ایک لکھائی میں اتنا کچھ کیسے سمیٹوں،کیا کروں ،شروع شروع میں ایسے لگتا تھا کہ صبر آ جائے گا ،سب کہتے ہیں صبر آ جاتا ،لیکن مجھے لگتا کہ کوئی اپنا زندگی سے جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اداسی بڑھتی ہے ،یہ سوچ زیادہ آتی ہے کہ اب نہی آنا واپس۔میرے ابو اب اس دنیا میں نہین ہیں ،تقریباً ساڑھے چاڑھے چار ماہ ہو گئے ،لیکن میں آج بھی سوچتی ہون میں ایک ولی کی بیٹی ہوں۔ولی کا معنی ہے “دوست”میرے ابو ولی صفت انسان تھے۔ میرے ابو نے پوری زندگی آنکھیں جھکا کر بات کی کوئی چھوٹا تھا یا بڑا وہ کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے ۔میرے رشتہ دار تک یہ کہتے تھے کہ بابا جی(میرے ابو)پاؤں بھی زمین پر بچا کر رکھتے ہیں کہ کہیں کوئی چیونٹی نہ مر جائے ۔
مرنے کے بعد انسان کے ساتھ کیا جاتا ہے ،صرف اس کی خوبیاں اور اچھائیاں رہ جاتی ہیں ۔ولی وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کردے۔جو کسی کو جینے کی امنگ دے دے ۔ چہرے پر خوشیاں بکھیر دے ۔میں جب بھی ابو سے کہتی تھی میرے لئے دعا کریں وہ کہتے تھے “اللہ خیر کرے گا”اور لگتا تھا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔میں نے ایک جگہ پڑھا جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ مکار ہے اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے وہ ولی ہے ۔ ولایت شخصیت نہیں کردار میں نظر آتی ہے ۔بلکل اسی طرح میرے ابو ایک نہایت سادہ لوح انسان تھے ،ان کا باطن اتنا اچھا تھا کہ ان کے ظاہر سے نظر آتا تھا۔ایک صحابیؓ نے پوچھا یارسول اللہﷺ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صبر کرنا اور معاف کرنا ۔آپ یقین کریں تہجد پڑھنا ، روزے رکھنا آسان ہے لیکن کسی کو معاف کرنا مشکل ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کا حسن یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلائواور ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکالو ۔جو صبر کرنا سیکھ لے ، بھوکوں کو کھانا کھلائے ، ہمیشہ اچھی بات اپنی زبان سے نکالے اور لوگوں کے لیے اپنے دل کو صاف کرلے اس سے بڑا ولی بھلا اور کون ہوسکتا ہے ؟میرے ابو نے نے بھی ہمئشہ دوسروں کی مدد کی ،ہمیں ان کے جانے کے بعد لوگ بتاتے تھے انھوں نے کتنی اچھائیاں کی لوگوں کے ساتھ ،اور اب ہم خوش ہوتے ہیں کہ ابو کا نام اتنے اچھے سے یاد کرتے ہیں سب۔یاد رکھیں جو لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی ولی ہے ۔ جس کے دل کی دنیا میں آج جنت ہے وہی وہاں جنتی ہے اور جس کا دل ہر وقت شکوے ،شکایتوں ، حسد ، کینہ ، بغض ، لالچ اور ناشکری کی آگ سے سلگتا رہتا ہے وہاں بھی اس کا ٹھکانہ یہی ہے ۔
میرے ابو میں یہی سب خوبیاں تھیں تو ولی بھلا اور کون ہو سکتا ہے؟

Facebook Comments