March 16, 2019 at 5:49 pm

تحریر:ندیم رضا
نیوزی لینڈ کی سرزمین بھی مسلمانوں کے خون سے سیراب ہوگئی۔ سفید فام دہشت گرد نے کرائسٹ چرچ کی النور مسجد کو لہو سے رنگ دیا۔ دہشت گرد نے انتہائی اسانی سے مسجد میں نماز جمعہ کے بعد نمازیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا۔ جو سامنے نظر آیا اس کا باوضو جسم گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ 28 سالہ حملہ آور برینٹن ٹیرینٹ کی جانب سے مسجد پر حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دہشت گرد نے گاڑی سے ہی سوشل میڈیا پر فائرنگ کے مناظر براہ راست دیکھائے۔ جنونیت اور انتہا کی نفرت دہشت گرد کے اس فعل سے واضح ہے۔ پھر بھی اہل مغرب اسے بنیاد پرستی اور دہشت گردی قرار دینے سے گریزاں ہے۔ مغرب کا میڈیا کتے یا بلی کی حادثہ میں موت پر انسانیت کا درس دینے لگ جاتا ہے۔ کرائسٹ چرچ کی مسجد میں 49 شہادتوں اور درجنوں کے زخمی ہونے پر بھی اس کا ردعمل عقل و دانش کے برعکس ہے۔ خدانخواستہ کہیں بھولہ بھٹکا عقل سے عاری مسلمان کوئی فعل انجام دے تو مغربی میڈیا اور حکمرانوں کا ردعمل نفرت آمیز ہوتا۔ نیوزی لینڈ مسجد حملہ کیس نے ایک بار پھر اہل مغرب کا سخت گیر دھرا معیار واضح کر دیا ہے۔ قیمتی جانوں کو بے جان بنانے والے درندہ صفت انسان کو دہشت گرد کے بجائے دیوانہ قرار دیا جارہا ہے۔
‏اتنے مُختلف کیوں ہیں فیصلوں کے پیمانے ؟
‏ہم کریں تو دہشت گرد ! تُم کرو تو دیوانے

کیا دیوانے یا نفسیاتی لوگوں کو اپنے پرائے کی تمیز ہوتی ہے؟۔
جواب ہر گز نہیں،
تو پھریہ کیسا دیوانہ تھا جو گاڑی چلاتے ہوئے صحیح سلامت مسجد پہنچ گیا۔ راستے میں کہیں گولیاں نہیں چلائیں اور مسجد میں گولیوں کی برسات کردی۔ باتیں وہ بنائی جائیں جس پر یقین بھی کیا جاسکے۔ دن کو دن اور رات کو رات کہنا سیکھیں۔ جانبداری اور غیر جانبداری میں زمین اور آسمان کا فرق ہوا کرتا ہے۔
‏تُم تو خون کی ہولی کھیل کر بھی ہو معصُوم
‏قتل بھی کیے تُم نے، جُرم بھی نہیں مانے
اس بار آپ کو جرم تو ماننا ہی پڑے گا۔ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی۔ یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کا راستہ روکنے کی منصوبہ بندی کا اعتراف بھی کرنا پڑے گا۔ نیوزی لینڈ، لندن، جرمنی اور دیگر ممالک میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملے کیا پیغام دے رہے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں سے آپ مسلمانوں کو ڈرانا چاہتے ہیں ایسا ممکن نہیں۔ کرائس چرچ کی مسجد میں آپ دیکھ چکے ہیں۔ پاکستان کے دو سپوت دہشت گرد کے سامنے سینہ سپر ہوئے۔ نعیم راشد اور ان کے بیٹے طلحہ دہشتگرد پر قابو پانے کی کوشش میں شہید ہوئے۔ ایبٹ آباد کے ان دو بیٹوں کی طرح دھرتی کے سب بچے اسلام پر مرمٹنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پاکستان پر تمہاری ہی مسلط کی گئی جنگ میں ہزاروں شہید ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوف کو بھی ان کے سامنے آتے ہوئے سو بار سوچنا پڑتا ہے۔ سانحہ مسجد النور میں چھ پاکستانی شہید اور کئی لاپتہ ہیں حوصلے اب بھی بلند ہیں۔ آپ اپنی سوچیں۔ آپ کا تو پورا معاشرہ انجانے خوف میں مبتلا ہے۔ اسلام امن و آشتی، محبت، اخوت، انسانیت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ اسلام بنیاد پرستی، انتہا پسند اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔ اہل مغرب کو اسلام سے بلاوجہ خوف زدہ ہونے والوں کی ضرورت نہیں۔ مخصوص ذہنیت کے پالیسی سازعوام میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ عوام نفرت پھیلانے والے ان بیجوں کی آبیاری کا حصہ نہ بنے۔ یہ وہ بیج ہیں جو ایسا تن آور درخت بن جائیں گے جس کے شر سے کوئی نہیں بچ پائے گا۔ نفرت اور انتہا پسندی کی فصل سے اس کے بونے والے بھی جان چھڑا نہ پائیں گے۔ اپنی اور دوسروں کی زندگی خوف سے پاک کرنے لے لیے ضمیر اور احساس کو مرنے سے بچانا ہوگا۔ ورنہ بقول شاعر آپ کو خبر بھی نہ ہوگی۔
ضمیر مرتا ہے احساس کی خموشی سے
یہ وہ وفات ہے جس کی خبر نہیں ہوتی

Facebook Comments