March 14, 2019 at 1:04 am

تحریر:ندیم رضا
ڈیرہ غازی خان کی دھرتی پر موجود سخی سرور کے چرچے تو اپنی جگہ ہیں ہی لیکن اسی علاقے کے سپوت وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے سرکاری خزانے سے سخاوت کی نئی مثال قائم کردی ہے۔ وزارت اعلی کے بعد بھی سرکاری مراعات سے فیضیاب ہونے کے لیے بزدار نے اپنے سیاسی حریف شہباز شریف کو بھی نواز دیا۔ موجودہ اسپیکر چوہدری پرویز الہی کی تو موجیں ہی ہو گئیں انہیں اسپیکر کے ساتھ ساتھ ماضی میں گزاری ہوئی وزارت اعلی کے بعد کی مراعات بھی ملتی رہیں گی۔ عوام کے سامنے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے شدید عداوت اور مخالفت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اور اراکین کو چور و ڈاکو سے پکارا جاتا ہے۔ اپوزیشن کی پارلیمنٹ کے فلور پر شنوائی نہیں ہوتی۔ جب بات ہو مشترکہ مفادات کی تو جھپیاں ڈالی جاتی ہیں۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔
بغیر بحث اور بغیر اعتراض کے اراکین اسمبلی اور وزیر اعلی کی تنخواہیں بڑھانے سے متعلق اپوزیشن جماعت کے رکن اسمبلی کی قرار داد منٹوں میں پاس کر لی گئی۔ یہ پہلی قرارداد ہے جسے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے نے پیش کیا۔ اس قرار داد کی آنا فانا منظوری سے اراکین اسمبلی کی تنخواہیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ عمران خان کے کفایت شعاری کے دعووں کو انہی کی جماعت کے اراکین نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
پسماندہ ترین علاقے کے وزیر اعلی نے تو حد ہی کر دی اپنی مراعات کے لیے پرویز الہی سمیت شہباز شریف کو بھی نواز دیا۔ 2002 کے بعد چھ ماہ سے زائد وزیر اعلی کے عہدوں پر فائز رہنے والوں کو بھی مراعات دے دیں۔ پسماندہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے المعروف وسیم اکرم پلس کی مراعات میں تو کئی گناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
موجودہ دور حکومت میں کسی بھی ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت ہی کے دور میں میڈیا انڈسٹری تباہ ہو گئی۔ حکومت کی جانب سے میڈیا کو اشتہارات کی بندش کا بہانہ بنا کر سیکڑوں صحافی میڈیا ہاوسسز سے برطرف کیے جا چکے ہیں۔ برطرفی کی چھری سے بچ جانے والے آدھی تنخواہ پر زیادہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ عوامی نمائندوں کی طرح میڈیا مالکان کے معمولات زندگی سے بھی ہرگز ایسا تاثر نہیں ملتا کہ معاشی حالات واقعی خراب ہیں۔ ملک کے دیگر اداروں کا بھی (صرف ملازمین کے لئے) برا حال ہے۔
“کھا گئے کتے مر گئے بھوکے”
یہ ہے نعرہ سرکاری اداروں کی کلرک ایسوسی ایشن کا، جو بیچارے صرف نعرے ہی لگاتے رہتے ہیں لیکن عوامی نمائندوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ صحافی بھی کئی مہینوں سے احتجاج کر رہے ہیں برطرفیاں اسی طرح جاری ہیں۔ میڈیا ہاوسسز کے مالکان کی طرح عوامی نمائندوں کو بھی عوام کی پروا نہیں۔ میڈیا مالکان اپنے ملازمین کو اور عوم نمائندگان اپنے وٹرز کو جھوٹی تسلیاں دیتے رہتے ہیں۔ مستقبل کے لیے حال قربان کرنے کا درس سنتے سنتے لوگ اب تنگ آچُکے ہیں۔ عوام کے لیے تسلیوں کا اور اپنے لیے فوری عمل درآمد کا قانون زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا کیونکہ جبر کے نتیجے میں مچلنے والی تبدیلی آکر رہتی ہے۔ جوش صاحب نے بھی خوب کہا ہے۔

ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا
جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا

Facebook Comments