March 13, 2019 at 11:55 am

سالانہ سوا ارب روپے کی سگریٹ گلگت بلتستان میں استعمال ہورہی ہیں جبکہ نوجوان نسل سمیت بچے و خواتین بھی سگریٹ نوشی کی طرف راغب ہورہے ہیں جس کی وجہ سے تیرہ اقسام کے کینسر سمیت کئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اس سگریٹ نوشی کے حوالے سے موجود قوانین پر عمل درامد اور سگریٹ کو فروخت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی تاکہ معاشرے کو سموک فری بنایا جا سکے سیڈو کے زیر اہتمام ایک روزہ ورکشاب ورکشاب میں سیڈو کے چیرمین عزیز کریم و جی ایم سیڈو شیر غازی نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی و صوبائی قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل درامد نہ ہونے کے برابر ہیں اس سلسلے میں سیڈو یوتھ سول سوسائٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر ان قوانین پر عمل درامد کو یقینی بنانے کے لئے کام کرے گی مقررین نے کہا کہ اس سلسلے میں سریٹ فروخت کرنے والوں کی رجسٹریشن کی جائے جس سے سالانہ پچاس کروڈ روپے صوبائی حکومت کو نہ صرف امدنی ہوگی بلکہ سگریٹ فروخت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی جبکہ اس سلسلے میں سیڈو عوامی اگاہی مہم کا اغاز کرے گی تاکہ نوجوان نسل کو تباہ ہونے سے بچا سکے۔’سگریٹ نوشی‘ سے سالانہ ایک لاکھ پاکستانی موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں گلگت بلتستان میں سیڈو یوتھ سول,سوسائتی و این جی اوز نے تمباکو نوشی کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کردیا.پاکستان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ایک لاکھ سے زائد افراد سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والے امراض میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یعنی ہر روز 298 ہلاکتوں کی ذمہ داری صرف ایک تمباکونوشی پر عائد ہوتی ہے۔جبکہ ائے روز نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس تمباکو نوشی سے نہ صرف متاثر ہورہے ہیں بلکہ اس سے بیماریوں کی شرح میں بھی کافی حد تک اضافہ ہورہا ہے
تمباکو نوشی کے روک تھام اور قوانین پر عمل درامد سمیت عوامی اگاہی کے لئے گلگت میں ایک ورکشاب کا انعقاد کیا گیا جس میں یوتھ و سماجی تنظیموں کے رہنماوں نے شرکت کیا اور اس بات کا عہد کیا کہ تمباکو نوشی سے نوجوانوں کو بچانا ہوگا
پہلے فیز میں سکولوں کالجز کے بچوں کو اگاہی دی جائے گی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر تمباکو نوشی کے حوالے سے موجود قوانین پر عمل درامد کروانے پر زور دینا ہے جبکہ سگریٹ فروخت کرنے والوں کو رجسٹرڈ کرکے سالانہ بھاری فیس رکھی جائے جس سے نہ صرف تمباکو فروخت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ اس کے فروخت میں بھی کمی ائے گی

Facebook Comments