March 10, 2019 at 10:34 pm

تحریر:نجم الحسن سید
ترقی اور نئے نظام کی تخلیق انسان کی فطری عمل ہے۔کسی بھی چیز یا نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے انسان ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔دنیا کی تخلیق کے بعد سے ہی انسان ترقی کی بلندیوں کی طرف محو پرواز ہے۔انسان پستی سے نکل کر عروج اور ترقی کے نت نئے فارمولوں پر عمل پیرا ہیں جس کی بنیادی وجہ فکر و تدبر ہے۔ہمیشہ انسان کو نئے چیز کی تلاش رہتا ہے وہ ترقی کیلئے غور و فکر کرنے کے بعد زندگی کے مختلف امور میں آسان فارمولے اپنا لیتا ہے۔یہی وجہ ہے اس 21ویں صدی میں دنیا گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کرچکی ہے،رہن سہن،ملبوسات اور کھانے پینے کے سٹائل یہاں تک کہ حاصل ٹیکنالوجیز بھی جدید سے جدید تر ہوگئے۔پاکستان سمیت پوری دنیا نظام حکومت اور نظام زندگی اپ گریڈ کرچکی ہے،ٹیکنالوجیز کی بنیاد پر نہ صرف لوازمات زندگی بلکہ ریاست میں رہنے والے عوام کیلئے قانون و دستور بھی وقت کے تقاضوں کے ساتھ تبدیل ہوتی جارہی ہے۔پاکستان میں بھی دور جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کی ترقی کیلئے بلدیاتی نظام متعارف کیا گیا جس کو سیاست دانوں،قانون دانوں اور تجزیہ کاروں نے عوام کو طاقتور بنانے والی نظام کا نام دیا،اگر آپ ان علاقوں کو دیکھیں جہاں بلدیاتی نظام موجود ہوں تو واضح ہوجائے گا کہ عوامی ترقی کیسے ممکن ہے۔
گلگت بلتستان میں بھی مختلف ادوار میں نظام حکومت تبدیل ہوتی رہی۔ایک دور تھا جب ڈوگرہ راج اور راجگیری نظام قائم تھا اس دور میں یہاں کے باسی مکمل طور پر غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے ہوئے تھے،تمام تر پابندیوں کی قید جسمانی و ذہنی غلام تھا۔حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ اس خطے کا نظام میں تبدیل ہوتا گیا۔لوگ جسمانی غلامی سے نکل کر آزادی کی زندگی گزارنے لگے۔1972 کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھٹو ریفارمز کا اعلان کیا جس کے ایف سی آر سمیت جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کردیا۔مختلف وفاقی حکومتوں نے مختلف قوانین کا اطلاق کیا تاہم گزشتہ سال چیف سیکریٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے ایک پرانی نظام کو نئی دریافت بنا کر متعارف کرایا جسے نمبردارانہ نظام کہا جاتا ہے۔سابق چیف سیکریٹری نے اس نظام کو قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے تحت علاقے کے حالات و واقعات سے انتظامیہ کو باخبر رکھنا اور ترقیاتی سکیموں کیلئے مشورے دینا ہے اور تمام تر معلومات انتظامیہ کو بروقت پہنچانا نمبردار کی ذمہ داری ہوگی۔اس کے علاوہ بچوں کی پیدائش اور اموات کی اطلاع،جانوروں میں پھیلنے والے بیماریوں کی اطلاع اور جنگلات کی غیر قانونی کٹاو کی اطلاع دینے کے پابند ہوں گے۔اس موضوع پر بلتستان کے مختلف شعور رکھنے والے افراد سے گفتگو کی اور ان کے خیالات و تاثرات بھی سنا۔مختلف شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تقریبا تقریبا اس نظام کی مکمل مخالفت میں ہیں۔کوئی اسے ڈوگرہ راج کا دوبارہ نفاذ سمجھتے ہیں تو کوئی اسے مخبری کا جدید طریقہ سمجھتے ہیں جس سے کسی بھی فرد کے زندگی کے نجی معاملات مخفی نہیں رہے گی اور کچھ افراد کی نظر میں اس نظام کو متعارف کرنے کا مقصد ہر فرد پر کڑی نظر رکھنا ہے۔اس وقت گلگت بلتستان میں انتظامیہ کے زمہ داران کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دیتے ہیں لیکن آج اچانک ترقیاتی سکیموں کیلئے نمبردار کی مشاورت کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ علاقے کی حالات و واقعات پر نظر رکھنے کیلئے کیا مختلف سیکیورٹی اداروں کے لوگ موجود نہیں؟ پنچایت کا نظام اس جدید دور میں لاگو پیش کرنے کی کیوں ضرورت پڑی؟ کیا مختلف محکمے اپنے امور ٹھیک سے نہیں چلارہے؟اگر نہیں چلارہے تو ذمہ داری بخوبی انجام دینے کے پابند کیوں نہیں بناتے؟
بلدیاتی نظام جسے عوامی ترقیاتی نظام اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا نظام کہا جاتا ہے جسے قابل ترین قانون دانوں اور سیاست دانوں نے بڑی سوچ و بچار کے بعد متعارف کرایا تھا۔اس نظام کو اگر گلگت بلتستان میں نافذ کیا جائے تو یہ خطہ بھی ترقی کرے گا اور اختیارات بھی عوام تک منتقل ہونگے۔
پاکستان میں اس وقت جمہوری حکومت قائم ہے اور جمہوری حکومتیں عوامی مینڈیٹ سے بنتی ہیں لیکن گلگت بلتستان میں موجود حکومت بظاہر جمہوری ہیں لیکن عین جمہور نہیں ہیں اس وقت صوبائی حکومت بیوروکریسی کے آگے بے بسی کی تصویر بنے دکھائی دیتی ہے جس کا تفصیلا ذکر گزشتہ کالم میں کرچکا ہوں۔نمبردارانہ نظام بھی بیوروکریسی راج کی ایک کڑی ہے کیونکہ جب کوئی قانون یا نظام لاگو کرنا ہو تو اسے باقاعدہ اسمبلی میں تمام اراکین کی متفقہ منظوری کے بعد لاگو کیا جاتا ہے تاہم اس نظام کو سابق چیف سیکریٹری نے کسی بھی عوامی منتخب نمائندے یہاں تک کہ وزیر اعلی سے بھی مشاورت کئے بغیر لاگو کرنے کا فیصلہ کیا۔ابھی نمبرداروں کے انتخاب کا عمل جاری ہے تاہم عوام کی اکثریت اس نظام کے بالکل مخالف دکھائی دیتی ہے اور عوام میں گہری تشویش بھی پائی جاتی ہے۔
☆☆☆☆☆

Facebook Comments