March 10, 2019 at 7:41 pm

تحریر: سیدہ سفینہ ملک
آج کل جہاں بھی جاؤ خواتین کی آزادی کی باتیں ہو رہی ہے کچھ تو احتجاج پر اُتر آئے ہیں سمجھ نہیں آرہا ہے کس آزادی اور کونسے حقوق کی باتیں کر رہے ہیں؟ حالانکہ آج کل خواتین جتنی آزاد ہے اُسکا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا, ہماری خواتین فلموں میں ،ڈراموں میں کام کر رہے ہیں اسے بھی زیادہ آزادی کوئی ہو سکتا ہے ؟ ہر آفس ہر اسکول، کالج،یونیورسٹی،اسپتال ،بینک یا سیاسی اداروں میں آپ کو خواتین کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے بہت سے خواتین باہر ملکوں میں پڑھتے یا کام کرتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں ہمیں آزادی نہیں ملی ! کیسی آزادی ،اور اس سے آگے کہاں جانا چاہ رہے ہیں؟ کہی اسی آزادی اور مردوں سے مقابلے کی لڑائی میں خواتین کچھ بھول تو نہیں رہے ہیں ؟ ہمارا کوئی مذہب بھی تو ہے؟
ہمارا دین اسلام جسکو ہم فالو کرتے ہے وہ ہمیں کیا کہتا ہے؟ کیا کسی نے کبھی غور کیا ہم ہر بات میں ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہیں مگر یہ بھول رہے ہیں دنیا میں ہر مذہب کے لوگ رہ رہے ہیں اُنکا رہن سہن روایتیں عبادات ،عقیدے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ہم انکی طرح نہیں بن سکتے کیونکہ ہمارے دین کے اصول اُن سے مختلف ہیں ہم بحیثیت مسلمان اپنی روایتوں ،اقدار اور اصولوں کو فالو کرنی ہوتی ہیں اور ہمیں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے ہوتے ہیں کیونکہ ہم نے اس مذہب کو اپنایا ہے تو یہ ہم پر فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے ! چونکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں ایک عورت کو سب سے زیادہ عزت ملی ہے بیٹی کو رحمت قرار دیا گیا ہے بیوی کو اُسکے شوہر کے لیے عزت اور ماں کے قدموں میں انکے بچوں کے لئے جنّت ہی لا کے رکھ دیا گیا , اس سے بھی بڑھ کر کوئی مقام اور عزت دنیا میں کہی مل سکتا ہے؟ کیا خواتین کو اس سے بھی بڑھ کر کچھ مل سکتا ہے کیا وہ آزادی جو آج کل کی خواتین مانگ رہے ہیں اس مقام سے بڑھ کر ہیں؟ کہ ایک مرد کو پوری زندگی ایک عورت کی حفاظت کی ذمےداری دی گئی اُسے کما کے کھیلانے اور انکی ضرورتیں پوری کرنے کی ذمےداری دی گئی پھر بھی ایک عورت خوش نہیں ہے اور مردوں سے لڑ رہی ہیں کہ اُنہیں اُنکا حقوق نہیں دیئے جا رہے ہیں ایک مرد کو اسلام نے یہ ذمےداری دی ہے کہ وہ کما کے عورت کو کھلائے انکے ساتھ اچھائی اور نرمی کا سلوک کرے انکی حفاظت کرے مگر عورت کی ذمےداری نہیں ہے کہ وہ کما کے خاندان کو کھلائے مگر پھر بھی ایک عورت گھر سے یہ کہہ کے نکلتی ہے کہ کما کے لائے گی تاکہ ایک مرد اُن پر ڈومیننٹ نا ہو اُنہیں یہی لگتا ہے کہ مرد اُنہیں گھر میں رکھ کے اُن سے گھر کا کام کرواتا ہے اپنی خدمت کرواتا ہے کپڑے دھلواتا ہے صفائی کرواتا ہے اور خود گھر میں کچھ نہیں کرتا ہے یہ سوچ کے وہ عورت گھر سے نکلتی ہے کہ وہ بھی مردوں سے کم نہیں ہے وہ بھی ملازمت کر سکتی ہے وہ بھی کما سکتی ہے مگر اُن سب مقابلوں میں کہی عورت اپنے دینی اقدار ، اصولوں اور روایتوں کو بھول تو نہیں رہی ہے ؟ وہ مقام جو اُنہیں ملا ہے اور جو ذمےداریاں اُنہیں دی گئی ہیں انکی جو ویلیو ہیں کہی وہ بھول تو نہیں رہی ہے ؟کیا اس مقام سے زیادہ عزت وہ خود کو دلوا سکتی ہے جو اللہ نے اُنہیں دیا ہے؟ انکی عزت محفوظ بنایا ہے کیا وہ خود کو اتنا محفوظ بنا سکتی ہے؟ سوچئے کہیں ہم برابری کے چکر میں کچھ کھو تو نہیں رہے ہیں ؟

Facebook Comments