March 10, 2019 at 4:16 pm

تحریر:ندیم رضا
آگ اور پانی کا ملاپ صرف ضرورت کے وقت ہوا کرتا ہے۔ جب کہیں آگ لگ جائے تو اسے بجھانے کے لیے پانی کا استعمال ناگزیر ہو جایا کرتا ہے۔ آگ زیادہ ہو تو پھر شہر بھر سے پانی کے ٹینکر طلب کر لیے جاتے ہیں ۔ ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب آگ کی جانب سے دیگر عمارتوں اور تجارتی مراکز کو لپیٹ میں لیے جانے کا خطرہ یقینی ہو۔ یعنی وہی فارمولہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے اور ضرورت کے وقت تو انہیں یا اسے بھی باپ یا مائی باپ بنا لیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ذہن میں اس وقت آیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کی سیاست کے اہم ستون اور تین ادوار کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی تیمار داری کا اعلان کیا۔ اس اعلان اور خواہش کی گونج نے سب کو حیران کر دیا۔ حالانکہ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ سیاست کی الف بے میں حرف آخر ہے ہی نہیں۔ سیاست کی بس ایک ہی زبان ہوتی ہے جس سے اپنا مطلب نکلتا ہو۔ سیاست کے دوسرے نام سے تو آپ واقف ہی ہوں گے اس لیے اس پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہی ہو گا۔
بات ہو رہی تھی تیمار داری کی جی ہاں بلاول بھٹو پیر کو نواز شریف سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کر رہے ہیں۔ پنجاب کی وزارت داخلہ نے انہیں وفد کے ہمراہ کوٹ لکپت جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔ تیمارداری کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ یہاں صرف تیمار داری نہیں مستقبل کی سیاست پر بھی بات چیت ہوگی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہونے جارہی ہے جب نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، بلاول بھٹو اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی ہی نہیں مسلم لیگ ن کے اہم رہنماوں سابق وزیر اعظم خاقان عباسی سمیت کئی رہنماوں کے خلاف بھی از سر نو کارروائی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ گرفتاریوں کی چھڑی چلنے سے پہلے صف بندی کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں ۔ فریال تالپور کی تقریبا ایک کھرپ روپے کی جائیدادوں کا پہلے ہی پتہ لگا لیا گیا ہے۔ مارچ کے مہینہ کو سیاسی مارچ پاسٹ سے بچانے کے وسیع تر مفاد میں بڑی بڑی ملاقاتوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسی صورت حال بلاول بھٹو کی کوٹ لکپت جیل لاہور میں ملاقات انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے قریبی ساتھی نے انکشاف کیا ہے کہ بلاول بھٹو سابق وزیر اعظم سے ملک کی بدلتی سیاسی صورت حال پر بات چیت کریں گے۔ میں نے کہا اس میں تو انکشاف والی کوئی بات نہیں۔ دو سیاست دان جب ملتے ہیں تو یہی کچھ ہوتا ہے۔ وہ پھر گویا ہوئے کہ نواز شریف کی بہتر تیمار داری اور علاج کے لیے بلاول انہیں کراچی کے اسپتال منتقل ہونے کی پیش کش کریں گے۔ کراچی میں امراض قلب کا بہترین اسپتال موجود ہے جہاں سیاستدانوں اور بڑے بڑے سرمایہ کاروں کا بھی علاج ہوتا ہے۔ سندھ بھر کے لوگ اپنے دل کا علاج کراچی ہی میں کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر نواز شریف نے بلاول بھٹو زرداری کی پیش کش قبول کر لی تو پھر ان کا اعلان نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی اینڈ کارڈیووسکیولر سرجری (این آئی سی وی ڈی) میں کیا جائےگا۔ اگر طبی سہولت کاری کی پیش کش کار گر ہو گئی تو موجودہ صورت حال میں یہ واقعی بہت بڑی پیش رفت ہوگی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے خلاف دہائیوں کی تلخ یادیں سینوں میں دبائے ہوئے ہیں۔ نیب کا شکنجہ دونوں ہی جماعتوں کو جکڑنے میں لگا ہوا ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمن بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ مولانا پچھلے بیس سال سے دونوں جماعتوں کے ادواروں میں فیضیاب ہوتے چلے آئے ہیں ان کا بھی نمبر لگنے والا ہے۔ نیب کی جانب سے گرفتاریوں کے پیش نظر اپوزیشن پہلے ہی سڑکوں کی سیاست پر غور کر رہی تھی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے قریب آنے سے مزاحمتی سیاست کے لیے مولانا فضل الرحمن کی صورت میں افرادی قوت کا مسئلہ بھی حل ہو جائےگا۔ شاعر سے معزرت کے ساتھ پھر سیاست کے گلشن کا کاروبار تیز ہو جائے گا۔
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
خبروالوں کے لیے بس اتنہا ہی کافی ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی طرح نواز شریف بھی کچھ وقت سمندر کے کنارے گزار سکتے ہیں۔ اس بدلتی اور تیز ہوتی سیاسی کہانی کے انجام کا آغاز ساحل سمندر سے ہی ہوگا۔

Facebook Comments