March 9, 2019 at 12:33 pm

تحریر:اجمل شبیر
کچھ تین چار دن پہلے کی خبر ہے جب ایبٹ آباد کے سروان چوک پر مردہ سماج کی اکلوتی زندہ آواز کو گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کردیا گیا۔جی ہاں میں بات کررہاہوں کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے بنیادی گواہ اور بہادر انسان افضل کوہستانی کی۔کوہستان ویڈیو اسکینڈل 2012کوسامنے آیا تھا۔اس ویڈیو میں دو لڑکے رقص کررہے تھے اور پانچ لڑکیاں تالیاں بجارہی تھی۔اس ویڈیو کے سامنے آنے کے دوسرے روز میڈیا پر یہ خبر آئی کہ ویڈیو میں تالیاں بجانے والی پانچوں لڑکیوں کو ایک جرگے کے حکم پر بے دردی سے قتل کردیا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ رقص کرنے والے دونوں لڑکوں کو بھی قتل کردیا گیا ہے ۔۔کہا گیا کہ قتل ہونے والے دونوں لڑکے افضل کوہستانی کے بھائی تھے۔کیس عدالت عالیہ میں گیا۔ کمیشن بنایا گیا ۔ریاست کی طرف سے کہا گیا کہ لڑکیوں اور لڑکوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی ۔2017میں لڑکوں اور لڑکیوں کے قتل کا حکم دینے والے جرگے کے افراد کو سزا سنادی گئی بعد میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پشاور ہائی کورٹ کی عدالت نے سزا ختم کردی ۔پشاور ہائی کورٹ کی عدالت کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جن دو لڑکوں کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے وہ زندہ ہیں ۔اس لئے عدالت نے جرگے والوں کو رہا کردیا۔اس سال یہ کیس دوبارہ کھلا جس میں پولیس نے کہا کہ لڑکیوں کو جرگے کے افراد کے حکم پر قتل کردیا گیا تھا جبکہ لڑکے جن کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے وہ فرار ہو گئے تھے۔2012 سے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی اور بنیادی گواہ افضل کوہستانی کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ وہ بیچارہ ہمیشہ یہ کہتا رہا کہ اسے قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔لیکن کسی کو کیا پرواہ ۔سپریم کورٹ نے بھی خیبر پختونخواہ کی حکومت کو حکم دیا تھا کہ افضل کوہستانی بنیادی گواہ ہے اس لئے اس کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے لیکن خیبر پختونخواہ کی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور آخرکار افضل کوہستانی مارا گیا ۔
یاد رہے کہ دو ماہ پہلے بھی افضل کوہستانی نے کہا تھا کہ جرگہ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا ہے ۔ ساتھ اس نے یہ بھی میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ قتل کردیا گیا تو ہزارہ پولیس اس کے قتل کی حقیقی زمہ دار ہوگی ۔پولیس نے افضل کوہستانی کے بھتیجے فیض الرحمان کو گرفتار کرلیا ہے اور کہا کہ اس کا بھتیجا ہی اس کا اصل قاتل ہے ۔ایبٹ اآباد تھانہ کے باہر افضل کوہستانی کی لاش پڑی رہی اور اس کےبھائیوں نے دھڑنا دیا کہ افضل کے حقیقی قاتلوں کو گرفتار کیا جائے ۔یہ ثابت ہوگیا کہ جو بھی سچ اور حق کے لئے جنگ کرے گا اسے بے دردی سے قتل کردیا جائے گا ۔ویڈیو میں رقص کرنے والے دونوں لڑکے زندہ ہیں جن کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔افضل کے تین بھائی قتل ہوچکے ،اب افضل کو بھی مار دیا گیا ۔لیکن جرگے والے قتل کے فیصلے دیتے جارہے ہیں۔افضل کوہستانی قتل ہوگیا ،ابھی مزید بے گناہ افراد بھی قتل ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیس کا کیا ہوگا ؟جب ویڈیو اسکینڈل کا بنیادی گواہ ہی قتل ہوگیا ہے ؟پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ روز خواتین کا عالمی دن منایا گیا ،عورت اآزادی مارچ نکالے گئے ۔فیسٹیول کا سماں رہا ۔لیکن کیا اس طرح سے عورت دشمن سوچ ختم ہو جائے گی ؟پولیس ،عدلیہ اور ریاست جب تمام ہی غیرت کے نام پر قتل کو دل سے درست سمجھتے ہیں توکیا صرف مارچ نکالنے سے حالات بدل سکتے ہیں ۔
یہ تو تھی کہا اب آتے ہیں ایک اور کہانی کی طرف۔22فروری کو انسداددہشت گردی ایبٹ آباد کے جج اورنگزیب خٹک نے 15 افراد کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر رہا کردیا ہے ۔ایبٹ آباد کے علاقت گلیاٹ کے گاوں مکول میں ایک سولہ سالہ لڑکی امبرین ریاست کو دو ہزار سولہ میں قتل کرکے اس کی لاش کو جلادیا گیا تھا ۔امبرین ریاست پر یہ شک ظاہر کیا گیا تھا کہ اس نے اپنی ایک سہیلی صائمہ کو پسند کی شادی کے بعد گاوں سے فرار ہونے میں مدد کی تھی ۔جس پر وہاں کے لوکل کونسلر پرویز نے طاقتور لوگوں کو جمع کیا ۔ایک گھر میں جرگہ ہوا جس میں امبرین ریاست کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ۔امبرین کو بعد میں ان 15 افراد نے قتل کیا اور کیری ڈبے میں اس کی لاش رکھ کر گاڑی کو آگ لگا دی ۔چار دن بعد امبرین کی جلی ہوئی لاش برآمد ہوئی ۔15 افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ۔پولیس کے مطابق ان پندرہ افراد نے اعتراف کیا کہ وہ جرگے میں شامل تھے اور انہوں نے ہی امبرین کے قتل کا حکم دیا تھا ۔اب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت نے ان تمام 15 افراد کو رہا کردیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ایسی ہوتی ہے ریاست؟سوال یہ ہے کہ کیا ایسی ہوتی ہیں عدالتیں ؟سوال یہ بھی کہ یہ پاکستان ہے یا جرگستان ؟
اب آتے ہیں تیسری حقیقی کہانی کی طرف ۔15 فروری کو گجرات میں غیرت کے نام پر قتل کے تین مجرموں کو ڈسٹرکٹ عدالت نے بری کردیا ۔پاکستانی نژاد اطالوی شہری چھبیس سالہ ثنا چیمہ کی اپریل دو ہزار اٹھارہ کو موت ہوئی ۔ثنا چیمہ کو خاموشی سے دفنادیا گیا ۔اطالوی حکومت نے ثنا چیمہ کی موت پر سوال اٹھا دیئے ۔عالمی میڈیا پر تہلکہ مچ گیا ۔سوال اٹھ گئے کہ ثنا کو قتل کیا گیا ہے ۔اطالوی حکومت کے دباو پر ثناچیمہ کی لاش کو قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کیا گیا ۔پوسٹ مارٹم کے بعد حقیقت سامنے آئی کہ گلا گھوٹ کر اسے قتل کیا گیا تھا ۔ثنا کے والد ،بھائی اور چچا نے اس قتل کا اعتراف کر لیا ۔اور اب پندرہ فروری کو ان تینوں مجرموں کو عدالت نے بری کردیا؟ثنا چیمہ کے قاتل بری ہوئے تو اطالوی وزیر داخلہ نے ایک ٹوئیٹ کی ۔جس میں انہوں نے کہا کہ اگر یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انصاف ہے تو ثنا کے لئے دعائے مغفرت ۔

Facebook Comments