March 8, 2019 at 2:45 pm

تحریر:عطا حسین
ساحر لدھیانوی اپنے خیالات ، جذبات اور احساسات سے دوسروں پر سحر طاری کردیتے تھے ۔ انہوں نے فلمی نغمہ نگار کی حیثیت سے خوب شہرت پائی ۔ان کے لکھے گیت کانوں میں رس گھول دیتے ہیں ۔
ساحرلدھیانوی8مارچ 1921 کو لدھیانہ پنجاب میں پیداہوئے۔ 1937 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی ان کا شعری مجموعہ تلخیاں شائع ہوتے ہی دلوں میں اترگیا ۔
امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالے گئے اور لاہور آگئے۔ ملک کی تقسیم کے بعد ساحر لاہور سے ممبئی چلے آئے۔
اورفلموں کےلیے گیت لکھنا شروع کئے۔
ان کی پہچان بحیثیت فلمی نغمہ نگار 1951 میں فلم نوجوان سے ہوئی،، جس میں ایس ڈی برمن نے سنگیت دیا تھا ۔
تدبیر سے ٹوٹی ہوئی تقدیر بنالے
اپنے پہ بھروسہ ہے تو ایک داؤ لگالے
وہ رومانی شاعر تو کبھی ترقی پسند شاعر کی حیثیت سے دوسروں پر سحر برپا کردیتے تھے۔
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
ساحر نے اپنے لئے ایک مکان تعمیر کرایا جس کا نام اپنے مجموعہ کلام کے نام پر پرچھائیاں رکھا ۔ اسی مکان میں انہوں نے 25 اکتوبر 1980 کو بعمر 59 سال آخری سانس لی ۔

Facebook Comments