March 6, 2019 at 2:39 am

بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگنے کا سرٹیفیکیٹ نہیں ہوگا تو نہ انہیں اسکول میں داخلہ ملے گا اور نہ ہی نادرا کا ب فارم بنے گا،اس حوالے سے قانون سازی کیلئے ایوان بالا میں بل پیش کرکے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد بھی کر دیا گیا۔خطرناک بیماریوں سے پاک پولیو فری اور صحتمند پاکستان کی جانب پیش قدمی جاری ہے اس ضمن میں لازمی ٹیکہ جات اور ہلتھ ورکرز کے تحفظ کیلئے قانون سازی کا آغاز ہوگیا اور ن لیگی سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے بل سینیٹ میں پیش کر دیا ، بل میں اسکولوں میں بچوں کے داخلے اور ب فارم بنانے کیلئے ویکسینشن سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے پر زور دیا گیا ہے ۔مسودے کے مطابق ملک میں محض 54 فیصد بچے ہی ویکسینشن پروگرام پورے کرتے ہیں ، بلوچستان میں ای پی آئی کی شرح 16 فیصد جبکہ کئی اضلاع میں زیرو ہے جس کے باعث بچوں کی شرح اموات بڑھ رہی ہے اور ہر دس میں سے ایک بچہ اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے دم توڑ جاتا ہے جبکہ 2012 سے 2015 تک 80 پولیو ورکرز ہلاک 54 زخمی بھی ہوچکے ہیں ۔تمام جماعتوں نے حمایت ملنے کے بعد بل مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ۔
ایوان نے قراة العین مری کی جانب سے پیش کردہ نجی اور سرکاری اداروں میں ڈے کیئر سینٹرز کے قیام کا بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

Facebook Comments