March 6, 2019 at 1:55 am

طالب علموں پر مشتمل ایک ٹیم نے کم قیمت والا وینٹی لیٹر ایجاد کرنے پر پہلا انعام جیت لیا ہے، جس کو وہ پاکستان میں بھی متعارف کرنے کے خواہش مند ہیں۔ایجاد کردہ نئے آلے (امبو لائیزر) کی قیمت 2 ہزار ڈالرز ہوگی جس کی پاکستانی روپے میں قیمت تقریبا 2 لاکھ 80 ہزار روپے بنتی ہے۔ امبو لائیزر کی قیمت عام وینٹی لیٹر کے مقابلے میں کم ہے کیونکہ عام طور پر استعمال ہونے والے وینٹی لیٹر کی قیمت 15 ہزار ڈالرز ہوتی ہے جو کہ پاکستانی روپے میں تقریبا 20 لاکھ روپے بنتی ہے۔اس طرح کی مشینیں پاکستان جیسے ممالک کےلیے خریدنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بہت مہنگی ہوتی ہیں۔ایم آئی ٹی سلوان ہیلتھ کیئر انوویشن کے سالانہ مقابلوں میں طالب علموں کی ٹیم 20 ہزار ڈالرز کا انعام جیت چکی ہے۔ طالب علموں کی ٹیم میں بوسٹن یونیورسٹی سے گریجویٹ شہیر پراچہ، ہارورڈ میڈیکل اسکول کے طالب علم سانچے گپتا، ایم ائی ٹی کے سابق طالب علم معیز امام اور عبدالرحمٰن اکاس، ایم ائی ٹی میکینکل انجینئرنگ کے طالب علم واسع انور، بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم روہن جدیجا اور حال ہی میں نیویارک یونیورسٹی ابو ظبی سے گریجویشن مکمل کرنے والے فرزان خان بھی شامل ہیں۔اکیس فروری کو ایم آئی ٹی سلوان وونگ آڈیٹوریم میں خطاب کے دوران شہیر پراچہ نے کہا کہ جب ہم نے پاکستان کے ڈاکٹروں اور اسپتال انتظامیہ سے بات کی تو، انہوں نے ایک ایسے آلہ کی ضرورت کا اظہار کیا جو کام کرنے کےلئے آسان، ریموٹ نگرانی کے قابل اور پورٹیبل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے روایتی وینٹی لیٹر کے مقابلے میں امبو لائیزر میں درستگی اور مستقل مزاجی کے عمل کو متوازن رکھنے کے ساتھ امبو بیگ کی صلاحیت رکھی ہے۔کراچی کی ہونہار طالبہ کو ناسا نے انٹرن شپ آفر کردی۔وینٹی لیٹر مشین سانس لینے میں مریضوں کو مدد فراہم کرتی ہے لیکن مہنگی ہونے کے باعث پاکستان میں تقریبا 2000 مشینیں موجود ہیں۔ بیشتر اسپتال سستے ’’امبو بیگ‘‘ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ اسپتال انتظامیہ یا مریض کے ساتھ بیٹھے شخص کو مشین کے ساتھ خود محنت کرنا پڑتی ہے تاکہ آکسیجن مریض کے پھیپھڑوں میں پہنچ جائے۔اپنی ایجاد سے متعلق بات کرتے ہوئے شہیر پراچہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ مجھے اپنے دوست کے 2 سالہ بچے کو تین دن اور تین رات ہاتھ سے وینٹی لیٹ کرنا پڑا، خاندان والوں کو کہا گیا تھا کہ جب تک وینٹی لیٹر مشین مل نہیں جاتی تب تک ہاتھ سے کریں۔ شہیر پراچہ کو اس طرح کے معاملات نے متاثر کیا جس کے بعد انہوں نے سستا، پورٹیبل اور الیکٹرانک وینٹی لیٹر تیار کر لیا۔
طالب علموں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ امبو لائیزر ڈیوائیس نوے فیصد مریضوں کو سانس لینے میں مدد فراہم کر سکتی ہے جو کہ روایتی وینٹی لیٹرز کے مقابلے میں بہتر ہے۔
حتمی آٹھ ٹیموں میں سے امبو لائیزر بنانے والی ٹیم نے یہ مقابلہ جیتا۔ امبو لائیزر دیکھنے میں ڈیسک ٹاپ پرنٹر جیسا لگتا ہے اور اگر اسے اِدھر اُدھر کرنا چاہیں تو بیٹریز سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔
شہیر پراچہ نے مزید کہا کہ ہم 20 ہزار ڈالرز کو موجودہ طبی آزمائش کےلیے استعمال کریں گے اور اگر یہ کمپنی پاکستان میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کو ساؤتھ ایشیا، افریقا اور ساؤتھ امریکا میں بھی وسعت دیں گے۔

Facebook Comments