March 5, 2019 at 11:55 pm

خیبرپختونخواکےبعد لشمینیا نے اٹک میں پنجے گاڑھ دیے دس مہینوں میں دو سو سے زائد بچے شکار ہوگئے۔اٹک میں جلدی بیماری کا بچوں پر حملہ جاری نواحی علاقہ سوجھنڈا اورگھوڑمار میں دو سو سے سے زائد بچے بیماری کا شکار ہوگئے ، متاثرین کے مطابق ڈاکٹرزعلاج کے بجائے مریضوں کو پنڈی ریفر کرکے جان چھڑا لیتے ہیں۔
محکمہ صحت کے افسران تو بات کرنے کو تیار نہیں لیکن اسپتال میں تعینات عملہ کہتا ہے ڈاکٹرز بھی بیماری کی تشخیص سے لاعلم ہیں ۔لشمینیا کا علم ہوا تو انتظامیہ نے ڈی ایچ کیو اسپتال میں اسپیشل سیل توبنادیا لیکن مرض سے بچاو کیلئے دوا یہاں بھی دستیاب نہیں ۔
ڈپٹی کمشنر عشرت اللہ خان نیازی کا کہنا تھا کہ مجھے4روز قبل اور کچھ فوٹو بھی ملے ہیں کہ کچھ بچے اور بڑھے لشمیانیاں نامی بیماری میں مبتلا ہیں جس کی ویکسین ابھی تک ایجاد نہیں ہوسکی، یہ بیماری کے پی کے سے آئی ہے جو پنجاب کے کئی اضلاع میں ہے، میں کے ایکشن لیتے ہوئے محکمہ صحت اٹک کو اس کے تدارک کے لیے حکم دے دیا ہے۔
بھورے مچھرکے ڈنک سے پھیلنے والی بیماری لشمینیا کےعلاج کیلئے اینٹی بائیوٹک انجکشن لگتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق اس بیماری سے حفاظت کی کوئی ویکیسن موجود نہیں۔

Facebook Comments