March 5, 2019 at 11:16 pm

پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہندو برادری کے خلاف نفرت انگیز اور نازیبا بیان دینے پر وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو کابینہ سے نکال ہے۔ فیاض الحسن چوہان چرب زبانی اور بدکلامی کے حوالے سے بہت زیادہ مشہور ہیں۔ کبھی صحافیوں، کشمیریوں تو مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف زبان درازی ان کا معمول تھا۔ لیکن اس مرتبہ ہندو برادری کے خلاف نازیبا بیان دینا انہیں انتہائی مہنگا پڑ گیا۔ ہر شعبہ ہائے زندگی اور پار آتی کے اندر سے مزمت کے بعد حکومت کو فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے فیاض چوہان کو آفس بلایا اور وضاحت طلب کی۔ تسلی بخش جواب نہ دینے پر کابینہ سے انہیں بے دخل کر دیا گیا۔ وزیراعلی کے ترجمان شہباز گل نے ویڈیو بیان میں وضاحت کی کہ ہندو کمیونٹی کےخلاف نازیبا بیان پر فیاض چوہان پر ناراضی کیا گیا اور استعفی لے لیا۔ پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین اور پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے فیاض الحسن چوہان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی مرتضی نے ان کی اسمبلی رکنیت بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فیاض الحسن چوہان کو کابینہ سے نکالنے کے بعد ضمنی انتخابات میں اوکاڑہ سے جیتنے والے صمصمام بخاری نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی۔ وزیر اعلی نے انہیں وزیر اطلاعات کا قلمدان سونپنے کی منظوری دی۔ صمصام بخاری بدھ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ صمصام بخاری اپنے دھیمے لہجے اور نرم گفتاری کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی حکومت میں میڈیا پر پارٹی کا دفاع کرتے تھے۔ خبر والے نے کئی ہفتے پہلے ہی انہیں پنجاب کا وزیر اطلاعات بنانے کی خبر شائع کردی تھی۔

Facebook Comments