March 5, 2019 at 6:28 pm

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا تھا جس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے شرکت کی۔ بلاول بھٹو بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوئےہیں۔بلاول بھٹو نے کمیٹی میں بلامقابلہ چیرمین منتخب ہونے کے بعد خطاب میں کہا سب کا شکریہ ادا کرتاہوں۔ خاص طور پر شیریں مزاری کا شکریہ ادا کرتاہوں جویہاں موجود ہیں۔ میں شیریں مزاری کی جماعت کی حکومت کا ناقد رہاہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انسانی حقوق کے حوالے سے شیریں مزاری کی کمٹمنٹ کسی شک وشبہے سے بالاترہے۔میری انسانی حقوق کمیٹی کا ممبر بننے میں دلچسپی رہی ہے۔اب جبکہ میں کمیٹی کا چیرمین منتخب ہوا ہوں ،پارٹی وابستگی سے بالا تر ہوکر انسانی حقوق کے لیے کام کرینگے۔ بلاول بھٹو نے کہا انسانی حقوق کسی بھی جمہوری معاشرے کی اساس ہوتے ہیں۔کوئی بھی جمہوریت انسانی حقوق کے تحفظ کیے بنا قائم نہیں رہ سکتی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ انسانی حقوق کے بغیر قانون کی حکمرانی ممکن نہیں ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے تھوڑا مشکل ہوتا ہے جب اپنے ملک میں ہی ہم انسانی حقوق یقینی نہیں بناسکتے۔ میں چاہوں گا کہ ہم ملکر انسانی حقوق یقینی بنانے کے لیے کام کریں، اس حوالے سے کمیٹی ممبران کا تعاون درکاہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھ پر اعتماد کرنے اور اتنی اہم ذمہ داری دینے پر سب کا مشکور ہوں میں یہ اہم ذمہ داری نبھانے کی ہرممکن کوشش کرونگا۔سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے صحافی نے سوال کیا کہ بلاول بھٹو کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں انہیں کیا مشورہ دیں گے؟سابق صدر نے جواب دیا کہ بلاول بھٹو کو مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔یاد رہے کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین کا تعلق بھی پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ مصطفی نواز کھوکھر سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ مصطفی نواز کھوکھر بلاول بھٹو زرادری کے ترجمان بھی ہیں۔ہ پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار آئے 6 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن قائمہ کمیٹیوں کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوسکا جس کے سبب قانون سازی کا عمل بھی رکا ہوا ہے۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کیلئے شہبازشریف پر اختلاف کے سبب بھی کمیٹیوں کا معاملہ التوا کا شکار ہوا تھا۔طے شدہ فارمولے کے تحت قومی اسمبلی کی 38 قائمہ کمیٹیوں میں 20 حکومت اور 18 اپوزیشن اتحاد کے حصے میں آئی ہیں۔

Facebook Comments