March 5, 2019 at 3:26 pm

وفاقی حکومت نے وفاقی ملازمین کی سالانہ رپورٹ 18-2017 جاری کردی ہے۔ وفاقی ملازمین کی تعداد 5 لاکھ 81 ہزار 240 تک پہنچ گئی ہے۔ ایک سال میں سرکاری ملازمین کی تعداد میں 11 ہزارکا اضافہ ہوا۔ منظورشدہ اسامیوں کی تعداد 6لاکھ 60 ہزار 657 اور ملازمین کی تعداد 5 لاکھ 81 ہزار 240 ہے۔ سرکاری اداروں میں خالی اسامیوں کی تعداد 79 ہزار 417 ہے۔ ملک میں غیر مسلم ملازمین کی تعداد 16 ہزار 711 تک پہنچ گئی ہے۔آکوپیشنل گروپس کے ملازمین کی تعداد 6 ہزار 240 ان لینڈ ریونیو سروس کے ملازمین کی تعداد 1 ہزار 77 ہے۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹوسروس کے ملازمین کی تعداد 892 پولیس سروس کے ملازمین کی تعداد 837 ہے۔ گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تعداد 95.2 فیصد اور17 سے 22 تک ملازمین کی تعداد 4.98 فیصد ہے۔ گریڈ 17 سے 22 میں ملازمین کی تعداد 28 ہزار 937 ہے۔ گریڈ 22 میں 96 گریڈ 21 میں 389 گریڈ 20 میں 1150 گریڈ 19 میں 3 ہزار 25 ملازمین ہیں۔ ایم پی ون ٹو اور تھری میں انتظامی عہدوں پر افسران کی تعداد 42 ہے۔
16 افسران ایم پی ون 21 افسران ایم پی ٹو اور ایم پی تھری افسران کی تعداد 5 ہے ۔ گریڈ 18 میں 7 ہزار 779 ملازمین اور گریڈ 17 میں ملازمین کی تعداد 16 ہزار 497 ہے۔ وزارت داخلہ 1 لاکھ 95 ہزار 868 ملازمین کے ساتھ سرفہرست وزارت ہے۔ دفاع کے ملازمین کی تعداد 21.62 فیصد ریلویز 12.71 فیصد کشمیر گلگت بلتستان کےملازمین کی تعداد 5.69 فیصد ہے۔ پوسٹل سروس کےملازمین کی تعداد 5.05فیصد بنتی ہے۔ پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تعداد سب سے زیادہ 56.06فیصد ہے ۔ سندھ کے سرکاری ملازمین کی تعداد 21.67خیبرپختونخواہ کے ملازمین کی تعداد 14.82 فیصد ہے۔ بلوچستان میں 4.34فیصد، آزادکشمیر 1.45فیصد اور فاٹا کے سرکاری ملازمین کی تعداد 0.88 فیصد ہے۔ سرکاری ملازمین میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 0.78 فیصد ہے۔ خیبر پختونخواہ کی خواتین ملازمین کی تعداد میں 0.58فیصد اضافہ ہواہے۔ پنجاب کی خواتین ملازمین کی تعداد میں 6.85 اور آزاد کشمیر کی خواتین ملازمین کی تعداد میں 6.67فیصد اضافہ ہواہے۔ پاور ڈویژن 35.57فیصد ملازمین کے ساتھ سب سے بڑا ڈویژن ہے۔ پیپکو 1 لاکھ 38 ہزار 459ملازمین کے ساتھ افرادی قوت کے اعتبارسے سب سے بڑا ادارہے۔ گریڈ17-22 کےملازمین کی سب سے زیادہ تعداد نیشنل بنک آف پاکستان میں ہے۔ پیپکو میں خواتین ملازمین کی تعدادتمام اداروں سے زیادہ 1ہزار 877ہے۔

Facebook Comments