March 5, 2019 at 1:29 pm

پاکستان کا معیاری وقت کیا ہے یہ جاننے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ شہری محمد حسنین نے اپنے وکیل عثمان خلیل ایڈووکیٹ کے توسط سے پٹیشن دائر کی ہے۔ ملک میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کیا ہے۔کسی کو معلوم نہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے ہر شخص اور ادارے کے گھڑیوں میں منٹس ،سیکنڈز ،ملی سیکنڈز ،مائیکرو سکینڈز یا نینو سیکنڈز کا فرق پایا جاتا ہے۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور پی سی ایس آئی آر کا ذیلی شعبہ پاکستان اسٹینڈرڈر ٹائم کو ڈیل کرتا ہے۔ نیشنل فزیکل اینڈ اسٹینڈرڈ لیبارٹری پابند ہے کہ ملک میں یکساں اور اسٹینڈرڈ ٹائم کی تشہیر کرے۔ این پی ایس ایل ملک میں یکساں اسٹینڈرڈ ٹائم متعارف کروانے میں ناکام رہا ہے۔ این پی ایس ایل کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث ہر ٹی وی چینل، ہر ائیرلائن، ہر ٹیلی کام کمپنی اور ہر ادارے کی گھڑیاں الگ الگ وقت بتاتی ہیں۔ اکیسویں صدی میں بھی پاکستانی عوام ملک کے اسٹینڈرڈ ٹائم سے ہی لاعلم ہیں۔جو کہ شرمندگی کا باعث ہے۔ درخواست گزار نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم یکساں نہ ہونے سے عوام الناس کو ہرسال کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ عدالت ملک میں یکساں اسٹینڈرڈ ٹائم کے نفاذ کو یقینی بنانے کا حکم جاری کرے۔

Facebook Comments