March 5, 2019 at 1:27 pm

تحریر مظاہر سعید
سرکاری اسکولوں کی خراب حالت کا وزیرتعلیم سندھ سید سردار شاہ متعدد بار خود اعتراف کرچکے ہیں۔ ان کی جانب سے بہتری لانے کے دعوے کئے گئے لیکن عملی طور پر ایسا نظر نہیں آرہا۔دوپہر کی شفٹ والے سرکاری اسکولوں میں طلبا کی تعداد نہ ہونےکے برابر ہے۔اور ایک طالب علم پر ماہانہ اٹھنے والا خرچ بڑے اور معروٖ ف نجی اسکولوں کی فیس سے کہیں زیادہ ہوچکا ہے۔ کراچی کے علاقے ملیر میں انگلش میڈیم گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول میں ایک ماہ کے دوران بچوں کی زیادہ سے زیادہ حاضری تیس اور کم سے کم پندرہ رہی۔ اسکول میں نوے بچے رجسٹرڈ ہیں۔ اسکول میں اساتذہ کی تعداد بارہ اور غیر تدرسی عملہ دو افراد پر مشتمل ہے۔اسکول کے اسٹاف کا خرچہ تقریبا چار لاکھ اسی ہزار ہے۔ اس حساب سے ایک طالبعلم پر سرکار کے اٹھارہ ہزار روپے خرچ ہورہے ہیں۔یہ رقم شہر کے معروف اور بڑے نجی اسکولوں کی فیس سے زیادہ ہے۔ کراچی گرامر، سٹی ، فائونڈیشن اور فیلکن ہائوس سمیت متعدد بڑے اسکولوں کی ماہانہ فیس تقریبا 20000 ہزارروپے ہے۔
ایک اسکول ٹیچر نے بتایا کہ اسکول کا نام تو انگریزی میڈیم ہے لیکن ماحول ایک عام سرکارکی اسکول کی طرح کا ہی ہے۔اسکول میں نہ فرنیچر ہے نہ انگلش میڈیم والا ماحول۔ طلبا یونیفارم پہنتے ہیں نہ ہی وقت کی پابندی کرتے ہیں۔
ٹیچر ثمینہ کاظم کے مطابق وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ اسکول میں طلبہ کی رجسٹریشن میں اضافہ ہو ۔وہ گھر گھر جاکر ماں باپ کو آگاہی فراہم کرتے ہیں لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود ہمیں مثبت جواب نہیں ملا۔دوسری ٹیچر فرزانہ خاتون کہتی ہیں شہر کی ہرگلی میں نجی اسکول کھل رہےہیں۔ پڑھائی چاہے کیسی ہی ہو والدین ان نام نہاد انگریزی اسکولوں کو سرکاری اسکولوں پر ترجیح دیتے ہیں۔
ڈائریکٹر اسکولز سیکنڈری حامد کریم کہتےہیں کہ مڈ شفٹ میں چلنےوالے اسکولوں کی فہرست مرتب کررہے ہیں اور ان میں بہتری لانے کی کوشش کرینگے جبکہ محکمہ تعلیم کے کچھ افسران بتاتے ہیں کہ سندھ بھر میں مڈ شفٹ والے تمام اسکولوں کو بند کردیا جائے گا ۔اس کی وجہ طلبہ کی رجسٹریشن نہ ہونا ہے ۔
وزیرتعلیم سید سردار شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ بھر کے چار ہزار نوسو اسکول چھت ، 97 فیصد سائنس،98فیصد بیالوجی،کیمسٹری ،فزکس اور کمپیوٹر لیبارٹریوں سے محروم ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں سندھ بھر کے 41649 اسکولوں میں کوئی لائبری موجود نہیں۔

Facebook Comments