March 5, 2019 at 12:23 pm

تحریر سلمان حیدر
چند سال پہلے جاپانی پولیس کے حوالے سے میں ایک خبر پڑھ کر حیران رہ گیا اور ساتھ ہی دل ہی دل میں آہ سی بھری کہ کاش ہماری پولیس بھی ایسی ہوجائے۔ خبر یہ تھی کہ جاپان میں پولیس چھوٹے موٹے، بے ضرر جرائم میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پولیس نااہل ہوگئی ہے اور بڑے مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی، بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہاں جرائم کرنے والے باقی نہیں رہے! جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ترقی یافتہ ملک میں جرائم کی شرح تیزی سے نیچے آتی رہی ہے اور اب تیرہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں جرائم برائے نام رہ گئے ہیں۔ یعنی قوم اور ادارے چاہیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔
مختلف ممالک میں پولیس کے ہمارے سے زیادہ ابتر حالات ہیں لیکن کئی ممالک ایسے ہیں جہاں پولیس صرف ایک محکمہ نہیں بلکہ ایک انتہائی منظم، معتبر اور مظبوط ادارہ  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ذرا سی گھبراہٹ محسوس کریں تو بلا جھجھک پولیس کا نمبر ڈائل کرتے ہیں۔ یعنی پولیس مستعدی سے شکایت درج کرانے والے کے پاس پہنچتی ہے اور حل طلب معاملے کو نمٹا آتی ہے۔ کاش ایسا ہی معجزہ کبھی ہم بھی اپنی زندگی میں پاکستان میں دیکھیں۔ جب ہمارے محافظ ہماری راحت کا باعث بن جائیں۔ انہیں دیکھ کر ہم گھبرائیں نہیں بلکہ اطمینان محسوس کریں۔ 
دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کاروائیاں انٹیلی جنس معلومات، ٹھوس شواہد اور مربوط حکمت عملی بنا کر کرتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں عجب ہی معاملہ ہے جہاں کاروائی کے بعد نئے سے نئے شواہد سامنے آجاتے ہیں۔ اور پھر ان نئے شواہد میں بار بار ترمیم بھی کی جاتی ہے۔
سانحہ ساہیوال کو ہی لے لیجیے ابہام در ابہام کی کیفیت ہے۔ اس کیس کی گتھیاں سلجھانے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، قانون بنانے والے، پارلیمانی کمیٹیاں اور میڈیا،،،سب ہی مصروف ہیں۔
19 جنوری کی سہہ پہر ساہیوال کے قریب قومی شاہراہ پر پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے کیے گئے پولیس مقابلے میں دو خواتین سمیت چار افراد کے مارے جانے کے بعد مجھ سمیت ہر ایک کے ذہن پر سی ٹی ڈی کی صلاحیت اور اہلیت پر سوالات کا طوفان کھڑا ہوچکا ہے۔
ساہیوال میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ذیشان جاوید کی ضعیف اور معذور والدہ نے منگل کو اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے بولنا شروع کیا تو وہاں مکمل خاموشی چھا گئی۔
نم آنکھوں سے ذیشان کی والدہ نے سینیٹ کمیٹی ممبران کے سامنے دہائی دی کہ مجھے دہشت گرد کی ماں اور میری پوتی کو دہشت گرد کی بیٹٰی نہ کہا جائے۔ اگر ان کا بیٹا دہشت گرد قرار دیا گیا تھا تو اسے مارا کیوں گیا؟ انڈیا کے جاسوس کو مربوط حکمت عملی سے زندہ گرفتار کیا جاسکتا ہے تو کیا ان کے بیٹے کو کو زندہ نہیں پکڑ سکتے تھے؟
دوسرا ہفتہ گزرنے کو ہے سانحہ ساہیوال پر بنی جے آئی ٹی کے سامنے سی ٹی ڈٰی اہلکاروں نے اب خود کو بے قصور قرار دے دیا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے گاڑی پر فائرنگ نہیں کی بلکہ کارمیں موجود افراد موٹرسائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے  جاں بحق ہوئے۔ سانحہ ساہیوال میں مارے گئے افراد کی پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ میں بڑے انکشافات ہوئے ہیں جنہوں نے پورے واقعے میں پولیس کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، اریبہ کو سینے، پشت اور ٹانگ میں 6 گولیاں لگیں، 6 سالہ منیبہ کے ہاتھ میں گولی لگی، بچوں کی والدہ نبیلہ کو 4 گولیاں لگیں، محمد خلیل کو 11 گولیاں لگیں اور ذیشان کو 13 گولیاں لگیں۔
شک تو ہوگا نا جب سوشل میڈیا پر عینی شاہدین کی جانب سے واقعے کی پوسٹ کی گئی ویڈیوز نے پنجاب پولیس اور حکومتی ترجمانوں کو اپنا موقف بار بار تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔ پہلے دہشت گرد، پھر اغوا کار، پھرسہولت کار، بالاآخر کار ڈرائیور ذیشان کو دہشت گرد اور واقعے میں ہلاک ہونے والے دیگر افراد کو بے گناہ قرار دیا۔ جبکہ مرنے والے ذیشان جاوید کا نہ تو کوئی کریمنل ریکارڈ تھا اور نہ ہی سی ٹی ڈی نے اپنی رپورٹ میں کوئی ایسا ثبوت پیش کیا ہے۔
مظلوم کی آواز کو سننے میں اتنی دیر کیوں لگائی جارہی ہے۔ مقتول خلیل  کے بھائی  جلیل جوڈیشل کمیشن کےقیام کا مطالبہ کرچکے ہیں۔۔لاہور ہائی کورٹ میں  دائر  درخواست  میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی کو تحقیقات سے روک کر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے ۔۔انھوں نے اعتراض کیا کہ جے آئی ٹی سے انصاف کی امید نہیں ہے، ان کا یہ بھی موقف تھا کہ آئی جی پنجاب  پولیس اہلکاروں اور سی ٹی ڈی حکام کو بچاناچاہتے ہیں۔
اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ آپریشن دہشت گردوں کے خلاف تھا  لیکن میرے سوال کچھ اور ہیں۔ اس واقعے سے کون کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یہ عقدہ کبھی کھلے گا یا نہیں؟۔ سانحہ ساہیوال کی کسی بھی توجیح کو دماغ قبول کرنے سے انکاری ہے۔ ہمارے وزیراعظم خود صدمے میں ہیں تو قوم کو صدمے سے کون نکالے گا؟
کون سے مہذب معاشرے کی تشکیل میں سرگرداں ہیں ہم؟
پولیس اصلاحات کے نام پر ایک نیا لالی پاپ قوم کو کیوں دیا جارہا ہے؟
میمنوں کے سامنے بھیڑ بکریوں کو بھی ذبح کرنے کی ممانعت ہے۔ معصوم بچوں کے سامنے والدین کو بے دردی سے قتل کیوں کیا گیا؟
کیا پھولوں کے گلدستے بچوں کی زخمی روح کے مداوے کے لیے کافی ہیں؟
کیا ریاست ان معصوموں کو ماں کی ممتا کی گرمی دے سکتی ہے؟
باپ کی شفقت کے سائے کا متبادل کیا اب ریاست ہوگی؟
ظلم کی کوکھ سے جنم لینے والے ایسے حادثات ریاست دشمنی پیدا نہیں کریں گے؟
یوں کہیے کہ ایک اور خاندان میں ریاست کے خلاف نفرت کے بیج بو دیے گئے۔ میرے ان سوالات کے جوابات اگر کسی کے پاس ہوں تو برائے مہربانی ضرور دیں۔

Facebook Comments