March 5, 2019 at 12:19 pm

تحریر: دانش منیر
بسنت موسم بہاراں کی نوید لے کر آنے والا خوشیوں سے بھرا رنگا رنگ تہوارہوا کرتا تھا۔اس تہوار کو پورے جنوبی ایشیا میں بھر پور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے مگر کئی بہاریں اس تہوار کے بغیر ہی روانہ ہوگئیں۔ بہار کی آمد سےہی خزاں کی وجہ سے مرجھائے خوبصورت پھول کھلنے لگ جاتے ہیں۔درختوں کی شاخوں سے جھاڑے کے بعد نکلنے والے نئے پتے ان کی خوبصورتی میں اور اضافہ کر دیتے ہیں۔ حسین اور دلکش مناظر ہو سو نظر آتے ہیں جس کی متلاشی ہر آنکھ ہوتی ہے ۔ گو کہ اس تہوار کا مسلک، زبان اور برادری کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی بعض لوگوں کی جانب سے اسے منانے پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ عوام پر اس کا کوئی اثر نہیں ، پورے پاکستان خاص طور پر پنجاب کے دل “لاہور” میں اسے باقی تہواروں کی طرح جوش و خروش سے منایا جاتا رہا ہے ۔باغوں کے شہر لاہور کو بسنت کا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے پاکستان سے لوگ بسنت منانے یہاں آتے تھے۔پاکستان کے شہری بسنت کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی مقررہ تاریخ سے کچھ دن ہہلے ہی لاہور کا رخ کر لیتے تھے ۔ اس بار بھی یہ جوش دیکھنے کو مل رہا تھا۔ چھوٹے علاقوں میں تو غیر اعلانیہ بسنت منائی جارہی ہے مگر اصل تہوار منانے کی والہانہ تیاریاں کی جاتی تھیں ایک رات پہلے تمام تیاریاں حتمی مراحل کو پہنچائیں جاتیں۔ ایک رات پہلے مصنوعی روشنیوں کی روشنی میں پتنگوں کو اڑان دی جاتی تھی۔ رات بھر کالے آسمان میں رنگ برنگی پتنگیں دن جیسا سماں باندھ دیتیں تھی۔ رفتہ رفتہ رات کے وقت بسنت منانے کا رواج بھی عام ہو نے لگ گیا۔ہر چھت رنگ برنگی پتنگوں ،ڈور اور مصنوعی روشنیوں سے بھری نظر آتی۔کھانے پینے کی درجنوں ڈشوں کے ساتھ ساتھ موسیقی کا بھی اہتمام کیا جات۔ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے یوں بھر جاتا جیسے کسی نے آسمان پر چھوٹے چھوٹے جگنو چھوڑ دیے ہوں۔ نوجوانوں کی جانب سے ایک دوسرے سے پیچیں لڑائے جاتےاور پتنگ کٹ جانے پر “بو کاٹا” کے نعروں سے فضا گونج ،اٹھتی۔ موسیقی کی دھنوں پر رقض بھی کیا جاتا۔رات بھر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتااور صبح ہوتے ہی نوجوان دوبارہ چھتوں پر چڑھ جاتے۔لاہور کے لزیز ناشتوں سے خوب تواضح کرنے کے بعد پھر سے پیچے لڑانے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔اس تہوار کو منانے میں نوجوان لڑکوں کیساتھ ساتھ خواتین اور نوجوان لڑکیاں بھی پیش پیش ہوتیں۔ پیلے اور سفید رنگ کا لباس زیب تن کیے ہاتھوں میں گجرے اور چوڑیاں پہنے یہ لڑکیاں چرغیاں پکڑتیں تو کبھی پتنگ کٹنے پر “بو کاٹا” کا نعرہ لگانے میں نوجوان کا بھر پور ساتھ دیتیں۔پورا آسمان رنگ برنگی مختلف سائز اور شکل کی پتنگوں سےخوبصورت منظر پیش کر نے لگتا۔ مختلف مقامات پر قد آور پتنگوں کی آڑان کا بھی بھر پورانتظار کیا جاتا،ہرسوں خوشیوں اور رنگوں کی بہار ہوتی تھی۔مگرگزشتہ کئی بہاریں خاموشی سے ہی چلتی بنیں۔ آسمان سجا اور نہ ہی پریشانیوں سے آٹے شہری آیک صحت مند تہوار سے لطف اندوز ہوسکے،جس میں حکومتی یوٹرن کا بھی خآصہ جرم مانا جاتا ہے۔ عوام کے ساتھ ہاتھ جو کیا تو عوام میں خاصہ غصہ بھی پنہا ہے کیونکہ خوشیوں کے تہوار کیساتھ ساتھ یہ ایک خونی کھیل بھی سمجھا جاتا ہے۔بسنت کے دن ہوائی فائرنگ اور قاتل ڈور کا استعمال عام ہوتا ہے۔جو کئی معصوم جانوں کو کھا جاتی ہے۔ پچھلے کئ سالوں سے بسنت کے اس رنگا رنگ تہوار کو منانے کا بہتر انتظام کرنے کی بجاے پاپندی لگا کر جان چھڑوا لی۔
پابندی پتنگ اڑانے پر نہیں بلکہ قاتل ڈور کو زمہ داد قرار دیا جانا چاہیےجس کے باعث رنگیلے تہوار کو خونی کھیل قرار دے کر پابندی کی نظر کر دیا گیا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع میں کمی واقعہ ہوگی مگر پابندی کے باجود بھی قیمتی جانوں کانقصان ہوا۔ بہت سے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑے اور وہ ایک ایک نوالےکو ترسنے لگے۔ جن شہریوں کا روزگار اور خاندانی پیشہ ہی صرف پتنگیں بنانا تھا ۔پابندی کے بعد ان کے لیے دو وقت کا کھانا پورا کرنا بھی کٹھن امتحان سے کم نہ تھا۔ پاکستانی خوشیوں کے اس خوبصورت رنگا رنگ تہوار سے محروم بھی ہو گئے۔ حکومت سے درخواست ہے کے ایسے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جس سے ہم محفوظ بسنت منا سکیں۔ ایک بار پھر سے آسمان کو رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا دیکھ سکیں،ایک بار پھر سے فضا “بو کاٹا” کے نعروں سے گونج اٹھے۔ ٹھنڈے چولہے پھر سے سلگ سکیں پھر سے روزگار مل سکے۔ قاتل ڈور رکھنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔ ٹھوس حفاظتی انتظامات کے ساتھ بسنت منانے کی اجازت دی جائے۔

Facebook Comments