March 4, 2019 at 9:23 pm

تحریر سلمان حیدر
salmanhaider791@gmail.com
اس موضوع پر لکھنا فرض نہیں واجب ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کمانڈر نے ماؤں کو دھمکی دی ہے کہ اپنے بچوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں ورنہ وہ سب مارے جائیں گے۔ اس چریے کو شاید یہ نہیں پتا کہ دھمکیوں سے کیسے رکے گی یہ مزاحمت؟ کیونکہ کشمیری مجاہدین کی تحریک ہی دھرتی ماں کی خاطر ہے۔ 
یہ بے وقوف دھمکی ان ماؤں کو دے رہا ہے جنہوں نے اپنے ہزاروں بیٹے تحریک آزادی کی خاطر قربان کردیے۔ یہ وہی مائیں ہیں جنہوں نے پیلٹ گن سے چھلنی اپنے بچوں کی نورانی آنکھوں کو اندھیرے میں ڈوبتے دیکھا ہے۔ یہ وہی مائیں ہیں جنہوں نے ڈل جھیل کو اپنے بیٹوں کے خون سے کئی بار سرخی مائل دیکھا ہے۔ اور یہ کمانڈر ایک ماں کو کہ رہا ہے کہ اپنے بیٹوں کو دھرتی ماں کہ دفاع سے روک لے۔ خوف کا شکار بھارتی سینا تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے جتنا ظلم کرتی ہے مجاہدین کا جذبہ اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔ بھارت یہ یاد رکھے کہ یہ تحریک کشمیریوں کی ہے اور کشمیری حریت پسند مقصد کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے اور وہ ہے حق خود ارادیت کا حصول۔ 
کشمیر کشمیریوں کا تھا، ہے اور رہے گا۔ یہ فیصلہ ان ماؤں کا بھی ہے اور ان کے بیٹوں کا بھی۔ بھارتی کمانڈر دھمکی نہ دے اپنی سرکار کو یہ بتائے کہ یہ پڑھے لکھے شیر جوان بیٹے بھارتی مکروہ عزائم کو بے نقاب کررہے ہیں۔
رہی بات پلوامہ واقعے کی تو یہ بھارتی فوج کا سیکورٹی لیپس نہیں تو اور کیا ہے۔ پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ لیکن ثبوت ایک بھی نہیں۔ بھارتی کمانڈر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ 100 گھنٹے کے اندر اندر پلوامہ حملے کے منصوبہ سازوں کو ہم نے ٹھکانے لگا دیا ہے۔ 
لیکن یہاں بھی اپنی کارکردگی کا کوئی ثبوت نہیں دے پایا صرف ٹیبل اسٹوریاں، پاکستان مخالف جذبات، بس یہی بی جے پی سرکار کا ایجنڈا نظر آتا ہے۔ 
بھارتی عوام بھارتی فوج سے یہ بات کیوں نہیں پوچھتی کہ تین سو کلوگرام بارودی مواد پلوامہ تک آخر پہنچا کیسے؟ 
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق بھارتی فوجی  کمانڈر   لیفٹینٹ جنرل ڈی ایس ہودا کا بھی کہنا تھا کہ حملے کے لیے استعمال ہونے والا   سیکٹروں کلوگرام آتش گیر مواد سرحد پار  کرکے پاکستان سے لانا ممکن نہیں،  یہ بھارت ہی میں تیار کیاگیا۔    
بھارتی عوام مودی سے یہ کیوں نہیں پوچھتی کہ خطے میں جنگ کے شعلے بلند کرنے کی کوشش کرنے والا نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دوول جس کا اپنا بیٹا  شوریہ دوول ‘جیمنی فنانشل سروسز’ کے نام سے دو پارٹنرز کے ہمراہ ایک کاروباری فرم چلا رہا ہے۔ جس کا ایک پارٹنر تو سعودی بزنس مین اور دوسرا پارٹنر پاکستانی کاروبای شخصیت سید علی عباس ہے۔ 
عوام سوال کریں نا کہ پچاس لاشوں کے اوپر دو مہینے کے لیے ٹکی مودی سرکار نے آخر کس گھٹیا پلاننگ کی تحت دلت اور سکھ سپاہیوں کو فورمیشن کے بغیر ایک بس میں اکٹھا کیا اور تین سو کلو دھماکہ خیز مواد سے بھون ڈالا۔
اور تو اور بھارتی ٹی وی اسکرینوں پر یقینناً دال میں کچھ کالا ہے کی خبریں چل رہی ہیں۔
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے بھی اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور سوال اٹھایا کہ اس حملے کے حوالے سے انٹیلی جنس  ہونے کے باوجود  کوئی حکمت عملی کیوں نہیں بنائی گئی۔ بھارت کے معروف سماجی کارکن سوامی اگنی ویش  بھی نریندر مودی پر برس پڑے،، کہا   کہ فوجیوں کی لاشوں پر سیاست کرکے آنے والے انتخابات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر پلوامہ حملے کے تانے بانے جوڑنے کی کوشش میں اتنا مصروف تھا کہ 2007 میں فوج سے جھڑپ کے دوران مارے جانے والے عبدالرشید غازی تک کو نہیں بخشا۔ پاکستان دشمنی میں اندھے بھارتی میڈیا نے عبدالرشید غازی کو پلوامہ حملے کا مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کرڈالا کہ ان کا ٹھکانہ معلوم کرلیا گیا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج  مرکنڈے کاٹجو نے  پاکستان کو دھمکیاں دینے والوں کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پلوامہ واقعے پر بدلے کا شور مچانے والے یاد رکھیں پاکستان ایک ایٹمی  طاقت ہے، کوئی مذاق نہیں۔۔وہ کہتے ہیں بھارت کے سرجیکل اسٹرائیک کے دعوؤں میں  کوئی حقیقت نہیں۔انہوں نے بھارت کو یہ بھی یاد دلایا کہ پاکستانی فوج تیار ہے اور کوئی سرپرائز نہیں دیا جا سکتا۔۔ 
جسٹس ریٹائرڈ مرکنڈے کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی رہنماؤں کی نا اہلی اور احمقانہ پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج تمام کشمیری بھارت کےخلاف کھڑے ہیں۔۔
رہی سہی حجت وزیرِ اعظم عمران خان نے تمام کردی۔ قومی سلامتی اجلاس میں وزیرِ اعظم پاکستان نے مسلح افواج کو بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اختیار دے دیا ہے۔
اس اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ ریاست اپنے لوگوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔
اس اجلاس میں کہا گیا کہ پلوامہ واقعے پر پاکستان نے تحقیقات کی مخلصانہ پیش کش کر دی ہے، امید کرتے ہیں بھارت پاکستان کی پیش کش کا مثبت جواب دے گا، بھارت نے پلوامہ حملے پر ثبوت دیے تو پاکستان کارروائی کرے گا۔
اس اجلاس کے اعلامیے کے مطابق، پلوامہ حملہ بھارت کے اندر ہی سے کرایا گیا، واقعے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد مقامی سطح پر کی گئی۔ اس کے باوجود بھارت کی جانب سے ہونے والی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
پچاس لاشوں پر سیاست کرنے والے بھارت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 70 ہزار سے زائد اپنے کھوئے اس لیے ہم تیار ہیں ، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر حد تک جانے کے لئے۔ ہم تیار ہیں ، خطے میں امن کی خاطر سب کچھ کرنے کے لئے، ہمسائیوں سے اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے، وہ تنازعات جو امن کی راہ میں رکاوٹ ہوں ان پر بات کرنے کے لئے مگر کوئی ہمسایہ ملک اگر ہماری امن کی خواہش کو کمزوری سمجھے تو یہ اس کی بھول ہے۔ اپنے دفاع کے لیے پاک فوج، سیاسی قیادت اور عوام سب ایک آواز ہیں اور تیار ہیں۔

Facebook Comments