March 4, 2019 at 9:18 pm

تحریر: کہکشا بخاری
کسی زمانے میں کتابوں کو انسان کا سب سے بہترین دوست قرار دیا جاتا تھا۔ وقت کے ڈھلنے کے ساتھ ساتھ لوگ کتابوں سے دور ہوتے چلے گئے۔ کتابوں سے انسان کا رشتہ جوڑنے کے لیئے ضروری تھا کہ ایک ایسی چھت بنائی جاتی جہاں سارے مضامین اور تاریخ پر مبنی معلومات ایک ساتھ مل سکیں۔ اس لیئے تیسری صدی میں مصر میں کتب خانہ اسکندریہ کی بنیادبطلیموسی فرمانروا سوتر اول نے اسکندریہ کے مقام پر رکھی۔ اس کے بیٹے فیلاڈلفس کی علم پروی اور کتابوں سے دلچسپی نے کتب خانہ اسکندریہ کوجلد ہی اس قابل بنا دیا کہ ایتھنز کی علمی وثقافتی مرکزیت وہاں سمٹ آئی۔ اصحاب علم وفضل دور دور سے اس علمی مرکز کی طرف جوق در جوق کھنچے چلے آتے۔ تقریبا سات صدیوں تک قائم رہنے والے اس کتب خانے کا انجام بڑا عبرتناک ہوا۔ 391 میں تھیوفلس اعظم کے حکم سے عیسائیوں نے اس کی کتابوں کو نیست و نابود کردیا ۔ ان کے خیال میں اس سے کفرپھیلنے کا اندیشہ تھا۔ کتب خانے پر لکھنے سے قبل اس کے خط وخال اور ماضی کو تراشنا بے حد ضروری تھا۔ لائبریری کی اہمیت سے ناواقف آج کی نوجوان نسل ان معلومات سے کہیں بہت دور چلی گئی ہے۔ مصر سے براہ راست پاکستان کے شہری کراچی آتے ہیں جہاں پر مختلف یونیورسٹیز اور کالجز میں بے شمار کتب خانے موجود ہیں مگر کتب خانے میں افرادی قوت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس تیزی سےالفاظ بدل رہے ہیں ان ْکا پیراہن اور انداز بیان بھی تبدیل ہورہا ہے۔ کتابیں لائبریویوں تک محدود تو ہوگئی ہیں۔ لکھنے والے بھی کم ہوتے چلے جارہے ہی۔ ،اشاعت و طبع کی صنعتیں معدوم ہورہی ہیں بہت ممکن ہے ہم ہی وہ آخری نسل ہوں جو تحریر مٹنے کی گواہ ہو۔ کتب خانوں کی تاریخ انتی ہی پرانی ہے جتنی کتاب کی ہے۔ جب سے فیض عام اور کتب کو محفوظ کرنے کا خیال آیا تو شاید پہلا کتب خانہ بنا۔ اب یہ حال ہے کہ انٹرنیٹ اور اب اینڈ رائڈ فونز نے کتب خانی کا ارتقا تیز کر کے اسے تبدیل کردیا ہے۔ ہر شخص قائل ہے کہ مطالعہ کرنے سے علم میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہر شخص مطالعہ نہیں کرتا البتہ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں وہ اس کے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں مطالعہ نہ کرنے کی شکایت عام ہے تعلیم یافتہ افراد کی ایک بڑی تعداد لاپرواہی اور بے توجہی کے باعث مطالعہ نہیں کرتی۔ بعض لوگ اپنی ملازمت سے مطمئن ہوکر مطالعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تجارت پیشہ افراد اپنی کاروباری مصروفیات کا بہانہ بناتے ہیں اور جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر افراد بے ترتیب مطالعہ کرتے ہیں۔ کبھی کوئی کتاب اٹھالی۔ کبھی کوئی کتاب دیکھ لی اس لئے مطالعہ کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر پاتے اور حاصل مطالعہ لکھنے کی توفیق تو بڑے نصیب والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ ہم کتب کا مطالعہ کیوں کریں ایسی کون سی چیز ان میں پوشیدہ ہوتی ہے جو بنا مطالعہ ہمیں مل نہیں سکتی؟۔ م اصل حقیقت یہ ہے کہ کتاب اور کتب خانے کی مدد سے ہم ان عظیم شخصیتوں سے رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں جن کے اقوال زریں ہماری زندگی کی قیادت کررہے ہیں۔ کتاب ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی ہدایت کرتی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی کے سبق آموز واقعات اپنی آئندہ زندگی کے لئے مشعل راہ بناتے ہیں۔ کتاب اور کتب خانے صرف کاغذ کے خشک اوراق کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ زندگی کی گوناگوں عملی مصروفیات، تجربوں،عمل، عقل اور چلنے پھرنے کا ایسا خزانہ ہیں جس کی مدد سے ہر شخص اپنی زندگی کی خامیوں کو دور کرسکتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں کتابوں کو سمجھنا ہوگا اور کتابیں کتب خانے میں ملے گی تو میں یہ کہنے پر حق بجانب ہوں کہ لائبریری کی رکتی ہوئی سانْسوں کو بحال کرنا اب نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے اور اگر نوجوان قیادت یوں ہی کتب خانوں سے دور ہوتی چلی گئی تو مستقبل میں اچھی لیڈر شپ کے خواب دیکھنے والوں کو مایوسی ہوگی۔ خوابوں کو عملی تعبیر پہنانے کے لیے ارباب اقتدار کے ساتھ ساتھ ہمیں جلد نیند سے بیدار ہونا پڑے گا۔

Facebook Comments